سرکاری سکولوں کواضافی آمدن پیدا کرنے کے منصوبے میں شامل کرنے کی تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(جنیدریاض)لاہور بھر کے سرکاری سکولوں کو کمرشل بنیادوں پر آمدن پیدا کرنے کے منصوبے میں شامل کرنے کی تجویزسامنے آگئی۔
محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکولوں کو اضافی وسائل پیدا کرنے کےلئے 13 مختلف آپشنز دے دیں۔
سکولوں کی بیرونی دیواروں پر برانڈنگ اور فلیکس بورڈز لگانے کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے،مرکزی شاہراہوں پر واقع سکولوں کو بل بورڈ اور ہورڈنگز کے لیے استعمال کیا جا سکے گا،سکولوں کی اضافی جگہ پر مارکیٹ، دکانیں اور کمرشل سرگرمیاں شروع کرنے کا آپشن بھی دیاگیاہے،موبائل فون کمپنیوں کو سکولوں میں ٹیلی کام ٹاور نصب کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
سکولوں کی چھتوں اور خالی زمین پر سولر انرجی منصوبے لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے،اس کے علاوہ سکولوں کی گراؤنڈز اور ہالز کو تقریبات اور کھیلوں کے ایونٹس کے لیے کرائے پر دینے کا پلان بھی دیاگیاہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پیڈل، کرکٹ اور جم سہولیات قائم کی جا سکیں گی،سکولوں کی لیبارٹریاں اور کمپیوٹر رومز نجی اداروں کو کرائے پر دینے کی تجویز بھی زیرغورہے،دیہی علاقوں کے سکولوں کی زرعی زمین لیز پر دینے کا آپشن بھی شامل ہے جبکہ اضافی زمین پر نرسری اور ہارٹیکلچر یونٹس قائم کیے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج خاطر خواہ کمی کا اعلان کرینگے: وزیراعظم
خالی عمارتوں کو ہاسٹل، سرائے یا رہائشی سہولت کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا،سکولوں کے داخلی راستوں کے قریب پبلک ٹوائلٹ فیسلٹی قائم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم کاکہناہے کہ سکولوں کے غیر استعمال شدہ اثاثوں سے اضافی آمدن حاصل کی جائے گی،پنجاب میں سکولوں کی مالی خودمختاری کے لیے جدید فنانسنگ ماڈل متعارف کرانا ہے،سکولوں میں سولر اور متبادل توانائی منصوبوں کو بھی آمدن کے ذرائع میں شامل کیا گیا ہے۔