روسی تیل پر30 دن کیلئے پابندیوں میں نرمی ، ملک میں آج پھر پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ متوقع

Mar 13, 2026 | 10:48:AM
روسی تیل پر30 دن کیلئے پابندیوں میں نرمی ، ملک میں آج پھر پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ متوقع
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)امریکا نے سمندر میں موجود روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کیلئے 30 دن کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کردی،عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے باعث پاکستان میں آج پھر پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اقدام کا مقصد ایران جنگ کے باعث ہلچل کا شکار عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ اتحادیوں کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کر سکتی ہے،ایران کیخلاف جنگ کیلئے کوئی بھی مالی قیمت ناقابل برداشت نہیں۔

علاوہ ازیں  تیل کے محفوظ ذخائر مارکیٹ میں لانے کے اعلان کے باوجود کروڈ آئل 101 ڈالر سے تجاوز کر گیا،ایک ہی دن میں تقریباً 10 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،غیر معمولی اضافے کے بعد برینٹ کروڈ آئل 101 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا ۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 9.29 ڈالر اضافے کے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 9.02 ڈالر مہنگا ہو کر 96.27 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی صدر سے رابطہ، مکالمے اور سفارت کاری پر زور 

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب  پاکستان میں آج ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے مہنگائی میں بھی مزید اضافے کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تجویز زیر غور ہے جس کا حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ  آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 51 روپے فی لیٹر  جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 81 روپے فی لیٹر تک  اضافہ ہو سکتا ہے۔

 ذرائع کے مطابق اوگرا آج نئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق سمری حکومت کو بھجوائے گا جس کے بعد حکومت حتمی منظوری دے گی اور نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:برطانوی فوجی اڈے پر امریکی بمبار طیاروں کو طاقتور بموں سے لیس کرنے کی ویڈیو نے ہلچل مچا دی

علاوہ ازیں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پیٹرول پر کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 مزید یہ کہ پیٹرول میں ملاوٹ کو روکنے کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 ماہرین کے مطابق اگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ہوا تو اس سے مہنگائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے اور عام شہریوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ 

یاد رہے حکومت پہلے ہی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک بڑا اضافہ کر چکی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت تقریباً 321 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔