’’آپ جیساکوئی میری زندگی میں آئے‘‘نازیہ حسن کو بچھڑے 25 برس بیت گئے

مشرقی اور مغربی موسیقی کے امتزاج سے جو گیت پیش کیے جو آج بھی شائقین میں مقبول ہیں

Aug 13, 2025 | 12:42:PM
’’آپ جیساکوئی میری زندگی میں آئے‘‘نازیہ حسن کو بچھڑے 25 برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے,انہوں نے اپنے منفرد انداز اور خوبصورت آواز سے پاپ موسیقی کو پاکستان میں متعارف کروایا۔
ان کے گائے ہوئے گانے آج بھی مداحوں میں بےحد مقبول ہیں،وہ صرف ایک گلوکارہ ہی نہیں بلکہ نوجوان خواتین کی آئیکون تھیں، جنہوں نے خواتین کو موسیقی کی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کا حوصلہ دیا,وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں موسیقی کے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں، ان کے مشہور گانوں میں آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے، دوستی، ڈسکو دیوانے، آنکھیں ملانے والے اور بوم بوم سمیت دیگر شامل ہیں۔


3 اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہونے والی نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب  حسن کو پاکستان میں پاپ موسیقی کا بانی کہا جاتاہے،انہوں نے مشرقی اور مغربی موسیقی کے امتزاج سے ایسے گیت پیش کیے جو برسوں گزرنے کے بعد بھی شائقین میں مقبول ہیں۔ 
80 کی دہائی میں بھارتی فلم ’’قربانی‘‘ کے لیے گائے گیت’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘‘ نے نازیہ حسن پرشہرت کے دروازے کھول دیئے جبکہ انہیں اس گیت کے لیے بھارت کے سب سے بڑے فلمی ایوارڈ فلم فیئر سےبھی نوازا گیا اور وہ یہ ایوارڈ پانے والی پہلی پاکستانی بنیں۔ 


نازیہ حسن نے 1981 میں ’’ڈِسکو دیوانے‘‘ کے نام سے اپنے گیتوں کا ایک یادگار البم ریلیز کیا،اس کے بعد 1984 میں ’’بُوم بُوم‘‘ اور ’’ینگ ترنگ‘‘، 1987 میں ’’ہاٹ لائن‘‘ اور1992 میں ’’کیمرا کیمرا‘‘ کے نام سے البم ریلیز کیے۔
 نازیہ حسن ایک فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان دوست بھی تھیں ،وہ موسیقی سے ہونے والی ساری آمدنی کراچی کی پسماندہ بستیوں میں بسنے والے بچوں، محروم نوجوانوں اور غریب خواتین کی بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرتی تھیں ،وہ نیویارک میں سیاسی تجزیہ کار کے طور پر بھی اقوامِ متحدہ سے منسلک رہیں اور 1991 میں پاکستان کے لیے ثقافتی سفیر مقرر کیا گیا۔


 نازیہ حسن کو ان کی فنی خدمات پرصدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا جب کہ انہیں  بیسٹ فی میل پلے بیک ایوارڈ اور 15 گولڈ ڈسکس سمیت متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا،وہ  پھیپھروں کے سرطان میں مبتلا ہوکر 13اگست 2000کو خالق حقیقی سے جاملی تھیں، ان کی فنی خدمات خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔