نئے صوبے، دل کے مریض اور ’’لاہور لے جائیں‘‘
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے باہر کھڑے ہو کر ایک آدمی کو صرف ہسپتال نظر نہیں آتا، اسے پورا پاکستان نظر آتا ہے۔
کوئی مریض جنوبی پنجاب سے آیا ہے، کسی سے بلوچستان کی مٹی کی خوشبو آرہی ہے، کوئی ابھی ابھی خیبر پختونخوا سے سفر کرکے پہنچا ہے، کوئی سندھ کے کسی دور افتادہ شہر سے رات بھر کا سفر طے کرکے میرے پاس بیٹھا ہے، کسی کے ہاتھ میں رپورٹس ہیں، کسی کے پاس پرانی ایکو کی فلم، کسی کے سینے پر ہاتھ ہے اور کسی کے چہرے پر وہ سوال جو ہر غریب آدمی سرکاری ہسپتال کے دروازے پر لے کر آتا ہے: "ڈاکٹر صاحب! بچنے کی کوئی امید ہے؟"
یہ سوال صرف ایک مریض کا نہیں، ہمارے نظام صحت کا سوال ہے۔
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور، محض ایک ہسپتال نہیں رہا، یہ پاکستان کے دل کے مریضوں کے لیے ایک ایسا مرکز بن چکا ہے جہاں ملک کے مختلف حصوں سے لوگ علاج کی امید لے کر پہنچتے ہیں، خود PIC کے سرکاری اعدادوشمار اسے پاکستان کا مصروف ترین cardiac centre قرار دیتے ہیں، 2026 کے صرف ایک ماہ اگست میں یہاں 1 لاکھ 3 ہزار کے نزدیک مریض آئے، اوپی ڈی میں 50 ہزار سے زیادہ تو ایمرجنسی میں 48 ہزار کے قریب قریب۔
بچپن خوشی خوشی آسمان کی مانگ پر سجے تارے گنتے گزرا تو جوانی کالم نگاری کے لیے ہسپتالوں میں مختلف اعدادوشمار اکٹھا کرتے کرتے پاؤں کے نیچے آئی بلی کی طرح یک دم کھسکتی چلی جا رہی ہے، اعداد کبھی کبھی انسان کو بے حس کر دیتے ہیں، لیکن ہسپتال کی راہداری میں کھڑے ہو کر یہی اعداد اچانک چہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، ایک باپ، ایک بیٹا، ایک بیوہ، ایک مزدور، ایک کسان، اور ان سب کے درمیان سفید کوٹ پہنے وہ ڈاکٹر، جو ہر چند لمحے بعد ایک نئے مریض کی طرف متوجہ ہو رہا ہے، اور سوچنے والا سوچتا رہ جاتا ہے کہ پورے پاکستان کے دل کا بوجھ صرف ایک ہسپتال پر؟ کیا یہ منظر نئے صوبوں کی ضرورت پر زور نہیں دیتا؟
عقل و شعور رکھنے والا شخص یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے کہ اتنی دور دور سے سفر کرکے علاج کے لیے لاہور آنے والوں کے گھروں کے قریب ہی یہ سہولیات کیوں موجود نہیں؟ ہسپتالوں میں اکثر مریضوں کو اکیلے آتے دیکھ کر بھی ایک عجیب خیال دل میں اترتا ہے کہ شاید اپنے اپنے مریض کے لیے دوردراز کا سفر کرتے کرتے انسان بھی بے حس ہوتا جا رہا ہے، کون کسی کے ساتھ سینکڑوں میل چلے؟ کون اپنا کام، اپنی مزدوری، اپنی دکان، اپنی فصل چھوڑ کر کسی بیمار کے ساتھ لاہور آئے؟ اور پھر کسی انہونی پر سوال ہسپتال انتظامیہ پر کہ اچھا کام نہیں کرتے! ایک اور بے حسی؟
اور جب ایک ہی مہینے میں دل کے ایک لاکھ سے زیادہ مریض پی آئی سی کا رخ کریں، ایمرجنسی اور او پی ڈی پر مریضوں کا ایسا دباؤ ہو کہ ہر لمحہ کسی نئی جان کو سنبھالنے کی فکر ہو، تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ہسپتال کتنا بڑا ہے، سوال یہ بن جاتا ہے کہ یہ سب کچھ آخر کب تک صرف چند بڑے شہروں کے کندھوں پر چلتا رہے گا؟
اگر لاہور کے ایک ہسپتال کو پورے پاکستان کے مریضوں کے لیے امید کا آخری چراغ بننا پڑ رہا ہے تو پھر ہمیں نئے صوبوں کی بحث کو صرف سیاست، شناخت اور اقتدار کے چشمے سے نہیں، صحت اور انسانی زندگی کے چشمے سے بھی دیکھنا ہوگا۔
نئے صوبوں کی بحث اداروں پر سوال نہیں اٹھاتی، بلکہ لوگوں کے مسائل بروقت حل نہ ہونے والی منصوبہ بندیوں پر سوال ضرور اٹھاتی ہے، یہ اعدادوشمار کتنے حوصلہ افزا ہیں کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے 18، 18 بیڈز پر مشتمل تین آئی سی یوز میں جدید ترین سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں، ایک ہی دن میں 1471 مریضوں کا وزٹ، 84 کامیاب انجیوگرافیاں، ہارٹ اٹیک کے بعد صرف ایک گھنٹے میں 15 مریضوں کے سٹنٹ اور اسی روز 12 مریضوں کی بائی پاس سرجری، یہ اعداد صرف اعداد نہیں، دراصل موجودہ قابل انتظامیہ کی محنت اور ان گھروں کی خوشیاں ہیں جہاں کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا شوہر یا کسی کا بھائی دوبارہ سانس لے رہا ہے، کسی کی ماں یا کسی کی بہن پھر زندگی جینے لگی ہے، پنجاب حکومت کو ڈاکٹر فرقد عالمگیر اور پروفیسر ڈاکٹر سید عمران الحسن شاہ جیسے بہترین منتظمین کی انتظامی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اس رش بھرے ماحول میں ایسی عمدہ کارکردگی سامنے آرہی ہے تو نئے انتظامی یونٹس کتنے اچھے رزلٹس دیں گے؟ یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے کہ انتظامیہ پر کام کا بوجھ جتنا کم ہو، وہ اتنی ہی بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے، اچھے منتظم کو ہر وقت فائلوں کے انبار میں نہیں، مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے میدان میں ہونا چاہیے۔
پی آئی سی کو خوبصورتی، صفائی، سہولت اور مریض دوست ماحول کے اعتبار سے ایک ایسے ہسپتال میں تبدیل کرنا، جسے دیکھ کر نجی شعبے کے بڑے ہسپتال بھی رشک کریں، اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا خواب ہے، خواب اگر وسائل کا ساتھ پالے تو خواب نہیں رہتا، تعبیر بن جاتا ہے، پنجاب حکومت اگر نئے صوبوں کی سمت میں ایک قدم بڑھائے تو نئے صوبوں کی بحث کو محض سیاسی مطالبے کے بجائے انتظامی اصلاحات سے جوڑتے ہوئے ایسے کتنے ہی شاندار ادارے اپنے پاؤں پر کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔
آخر نئے صوبے بنانے کا مقصد بھی تو یہی ہونا چاہیے کہ ریاست ماں کا دستِ شفقت اس کے ہر ایک بچے تک پہنچے، نہ کہ اس کے بچوں کو دھکے کھاتے کھاتے ایک ہی ہسپتال تک پہنچنے کے لیے سیکڑوں میل کا سفر کرنا پڑے۔
دل کے مریض بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، اور ان کی تعداد دراصل ایک ہی کہانی سنا رہی ہے کہ پاکستان میں دل کے مریض صرف لاہور یا کراچی میں نہیں رہتے، مگر علاج کے بڑے مراکز لاہور اور کراچی میں ضرور ہیں، اب ذرا اس منظر کا دوسرا رخ دیکھیں، ایک شخص بہاولپور سے لاہور آتا ہے، ایک مریض ڈیرہ غازی خان سے نکلتا ہے، کوئی بلوچستان کے کسی ضلع سے پہلے کوئٹہ، پھر لاہور کا سفر کرتا ہے، راستے میں وقت گزرتا ہے، دل کے مریض کے لیے وقت صرف وقت نہیں ہوتا، وقت کبھی زندگی تو کبھی موت کے درمیان فاصلہ بن جاتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انتظامی ضرورت بن جاتی ہے۔
اگر نئے صوبے بنتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صرف نئے دفاتر بن جائیں، نئی گاڑیاں خرید لی جائیں، نئی کرسیوں پر نئے افسر بیٹھ جائیں اور پرانی بیماری وہیں موجود رہے!
نئے صوبے کا اصل جواز تب ہے جب اس کے ساتھ نیا انتظامی ڈھانچہ، نیا بجٹ، نئے میڈیکل کالج، نئے ٹیچنگ ہسپتال، نئے cardiac centres، نئے cancer centres اور جدید diagnostic facilities بھی وجود میں آئیں، اور یہی بات پی آئی سی ہمیں اپنے وجود سے سمجھا رہا ہے۔
پی آئی سی جتنا بڑا ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی بڑا سوال بھی پیدا ہو رہا ہے: کیا ہر مریض کو لاہور آنا چاہیے؟ جواب یقیناً نہیں ہے، مانا کہ لاہور پاکستان کا دل ہے، یہ مگر کہاں لکھا ہے کہ لاہور کو پاکستان کے ہر دل کا بوجھ اٹھانا چاہیے؟ لاہور کو پاکستان کے ہر دل کا بوجھ اٹھانے کے بجائے پاکستان کے ممکنہ طور پر نئے بننے والے صوبوں کو بھی ایسے ادارے دینے ہوں گے جہاں ماہر ڈاکٹر، ایسی ہی cath lab، ایسا emergency response، ایسی cardiac surgery اور ایسی ہی جدید سہولتیں دستیاب ہوں۔
نئے صوبے اگر واقعی انتظامی اختیارات کو عوام کے قریب لے جانے کے لیے بنائے جاتے ہیں تو صحت کا شعبہ اس کا سب سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ سوچیے، اگر جنوبی پنجاب کا ایک جدید cardiac centre بہاولپور یا ملتان میں اسی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے لگے تو کتنے خاندان لاہور کے سفر سے بچ جائیں گے؟ اگر بلوچستان کے نئے صوبوں میں بڑے cardiac centres ہوں تو کتنے مریض کراچی یا لاہور کے سفر سے بچ سکتے ہیں؟ اگر خیبر پختونخوا کے نئے صوبوں میں شاندار ہسپتال ہوں تو کتنے مریض پشاور سے آگے جانے پر مجبور ہوں گے؟ یہ صرف ہسپتال بنانے کی بات نہیں، یہ ریاست ماں کو اس کے مریض بچے کے قریب لانے کی بات ہے، اور شاید نئے صوبوں کی سب سے خوبصورت دلیل بھی یہی ہے کہ حکومت کا مرکز جتنا چھوٹا ہوگا، شہریوں تک سہولیات کی رسائی اتنی بڑی ہو سکتی ہے۔
ہم نے ہمیشہ صوبوں کی بحث میں زمین، زبان، شناخت، سیاست اور اقتدار کی بات کی ہے، کبھی دل کے مریض کی بات بھی کر کے دیکھیں، وہ مریض جسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ صوبہ کتنا بڑا ہے، اسے صرف یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جب اس کا سینہ درد سے پھٹنے لگے تو اس کے شہر سے چند منٹوں کی مسافت پر ایک ایسا ہسپتال موجود ہو جہاں کوئی ڈاکٹر اس سے یہ نہ کہے: ’’لاہور لے جائیں۔‘‘
(سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں)