پروفیسر زید بن عمر کی تنصیف ’’ چودھری رحمت علی اعتراضات کا جائزہ ‘‘ کی پذیرائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر زاہد بن عمر کی تنصیف ’’چودھری رحمت علی اعتراضات کا جائزہ ‘‘ شائع ہوگئی ، کتاب میں چودھری رحمت علی پر گذشتہ صدی کے دوران اٹھائے گئے اعترضات مد لل اور مسند جواب دیا گیا ہے ۔
کتاب کی اشاعت پر صدر پاکستان نیشنل موومنٹ ایم یوسف عزیز نے صاحب کتاب کو مبارک باد دی اور کہا کہ لمحہ موجود میں پروفیسر زید بن عمر کا کام مدتوں یاد رکھا جانے والا ہے ۔
یہ کتاب تاریخ ، جغرافیائی ، سیاست ، مذہب اور عمرانیات میں دلچسبی رکھنے والوں کے لیے نادر دستاویز کی حثیت رکھتی ہے جس میں چودھری رحمت علی کی شخصیت ان کی حیات وخدمات کے نئے اور نادر پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا ۔
کتاب میں شروع سے آخر تک قارئین کی دلچسبی کو ملحفوظ رکھا گیا ، ایم یوسف عزیز نے تاثرات میں مزید لکھا کہ کتاب میں ناقدین اور تاریخ کا قتل کرنے والوں کو صداقت و حق کا آئینہ دیکھایا گیا، جسٹس ریٹائرڈ نذیر احمد کا کہنا تھا کہ کتاب لکھ کر زید بن عمر نے کمال کردیا ۔
جنہوں نے چودھری رحمت علی نے پاکستان کے لیے شبانہ روز خدمات کا احاطہ کیا ، چودھری رحمت علی نے 1933 میں پاکستان کا تصویر پیش کیا اور اسکی عملی ، جغرافیائی اور مذہبی تعمیر اپنے مشہور زمانہ پمفلٹ اب یا کبھی نہیں کی صورت میں سامنے لاکر جو کارنامہ انجام دیا اس پر محباں وطن ہمیشہ شادان رہیں گے ۔
یہ بھی پڑھیں :اسرائیلی پولیس کا ٹرمپ کے دورہ اسرائیل کیلئے سیکیورٹی پلان جاری