کسی بھی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی:وزیراعلیٰ مریم نواز، آئمہ میں اعزازیہ کارڈ تقسیم

Jan 08, 2026 | 11:25:AM
کسی بھی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی:وزیراعلیٰ مریم نواز، آئمہ میں اعزازیہ کارڈ تقسیم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ مذہبی منافرت اور تقسیم کو روکنا تمام علما کرام کی ذمہ داری ہے، کئی لوگوں نے مذہب کے نام پر فتنے کوفروغ دیا،کسی بھی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں علما کرام میں اعزازیہ کارڈ کی تقسیم سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنا، ان کے کاروبار اور املاک کو نقصان پہنچانا اور ریاستی و عوامی امانت کو تباہ کرنا کھلا فتنہ ہے، ایسے فتنے کی سرکوبی صرف حکومت نہیں بلکہ پورے معاشرے، بالخصوص علما کرام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاشرے میں علما اور آئمہ کرام کا منفرد مقام ہے ،علما اور آئمہ کرام ہمارے لیے قابل احترام ہیں، پورے پنجاب میں 80ہزار مساجد ہیں، مجھے70ہزار مساجد کے امام کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئیں، کئی مساجد کے امام نے کہا ہمیں ماہانہ 5ہزار روپے ملتے ہیں تومیرا دل بہت دکھا، آئمہ کرام کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، علماء، آئمہ کرام اورامام صاحبان کو 25ہزار روپے ماہانہ دیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ 25 ہزار ایک چھوٹی سی رقم ہے لیکن اس سے آپ کی زندگی میں کچھ آسانی ہوگی، ماہانہ اعزازیہ ملے گا، آسان اورشفاف آدائیگی کا نظام ہم نے ترتیب دے دیا ہے، آپ تمام نمازیوں سمیت حکمرانوں کی بھی تربیت کرتے ہیں، یہ 25ہزار آپ کیلئے ایک چھوٹا سا نذرانہ اورتحفہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی کوئٹہ آمد، این 25 شاہراہ اور دانش اسکولوں کا افتتاح کریں گے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ فروری سے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے 25ہزارکی رقم منتقل کی جائے گی، بینک آف پنجاب کے اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکلوائی جاسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ فروری کے آخر سے امام مسجد کا پنجاب بینک میں اکاؤنٹ اوپن ہوجائے گا، جب آئمہ کرام اورحکومت کے رابطے میں خلل آتا ہے تو معاشرے میں خرابی پیدا ہوتی ہے، پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، چاہتے ہیں ملک میں اتحاد اور امن کو فروغ ملے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو لوگوں پر تنگ کرنا، بے گناہوں کا خون بہانا، ان کے کاروبار، املاک، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچانا اگر فتنہ نہیں تو پھر فتنہ کس کو کہا جائے، اس فتنے کی سرکوبی صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے علما کرام کی لمحہ بہ لمحہ معاونت درکار ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دین کے نام پر فتنہ پھیلانا دین سے بڑی خیانت ہے، جو لوگ اپنی ڈیوٹی پر تھے، جو ریاست اور عوام کے تحفظ کے لیے مامور تھے، ان سے ان کی روزی، ان کی زندگی اور ان کا مستقبل چھین لیا گیا، اگر یہ فتنہ نہیں تو پھر اور کیا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ فتنے کو برا جاننا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے اور یہ معاشرے کے لیے زہر اور انسانیت کا قتل ہے۔

انہوں نے علما کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں کا خیال رکھیں کیونکہ جب لوگ مشکلات میں ہوتے ہیں تو وہ دین، اللہ تعالیٰ اور دین کی بات کرنے والوں کی طرف دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں:اس وقت ملک میں ایندھن پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر ٹیکس عائد ہے، مفتاح اسماعیل کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث دونوں میں فساد کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، وزیرِ اعلیٰ نے علما کرام سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ظلم، زیادتی اور فتنہ چاہے کسی بھی رنگ، نسل یا طبقے سے ہو، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے کٹہرے میں لا کر مظلوموں کو انصاف فراہم کرے۔

مریم نواز نے کہا کہ ریاست پوری قوت کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرے گی، شہدا کے خون کا حساب بھی لیا جائے گا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ شاید اس طریقے سے آپ نے نہ دیکھا ہو کہ کس طرح صوبے میں گن کلچر کا خاتمہ کیا گیا، چوری چکاری، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی جیسے جرائم پر قابو پایا گیا اور دن دہاڑے ہونے والے قتل و غارت کے واقعات کو روکا گیا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی تاکہ عوام اپنے گھروں میں سکون سے رات گزار سکیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی قسم کے فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پنجاب کی سرزمین ہر فتنے، ہر ظالم اور ہر مافیا کے لیے ان شاء اللہ تنگ کر دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ فتنہ چاہے کسی بھی روپ یا نقاب میں آئے، وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچنا چاہیے، اور اس سلسلے میں علما کرام کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ لوگ علما کرام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، انہیں مکرم اور مقدم سمجھتے ہیں اور ان کی بات سنتے ہیں، اس لیے معاشرے کی اصلاح کرنا ان کا دینی فریضہ ہے، جیسا کہ یہ ان کا اپنا بھی دینی فریضہ ہے، جس طرح علما لوگوں کو نماز، اذان اور قرآن کی تعلیم کی طرف بلاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو قانون کے احترام کا شعور دیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ملک اور قوم کی خدمت اور حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستان میں بسنے والے شہری کی ذمہ داری ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کیا جائے کیونکہ وہ عوام کی خدمت اور حفاظت کے لیے مامور ہیں اور اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ٹریفک قوانین پر سختی کی گئی ہے اور وہ جانتی ہیں کہ لوگ اس سے خوش نہیں ہیں، ہیلمٹ نہ پہننے، ون وے کی خلاف ورزی، کم عمر بچوں کے گاڑیاں چلانے اور دیگر خلاف ورزیوں پر چالان ہو رہے ہیں، مگر ان چالانوں سے ان کی ذات کو کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہیلمٹ پہنتا ہے تو اس کا فائدہ مریم نواز شریف کو نہیں بلکہ ماؤں کے بیٹوں کو چوٹ لگنے سے بچانے، بہنوں کے بھائیوں کی جانوں کے تحفظ اور بچوں کے باپوں کو خیریت سے گھر واپس لانے میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ چالان نہیں کرنا چاہتیں بلکہ عوام کی زندگیوں کی حفاظت چاہتی ہیں۔

مریم نواز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون، ٹریفک قوانین اور اخلاقی اقدار کا احترام کریں، ہر قسم کے نشے اور برائی سے دور رہیں، چاہے وہ زمین پر قبضہ ہو، حق تلفی ہو یا کسی پر ظلم، حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی، لیکن علما کرام کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے، اس لیے معاشرتی مسائل کے حل میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی کا گھر یا دکان ناحق قبضہ کرنا نہایت مذموم عمل ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات میں حکومت کی معاونت کرنا ضروری ہے اور علما کرام اور عوام سے گزارش کی کہ وہ اس معاملے میں ان کا ساتھ دیں تاکہ ایک مضبوط اور فخر کا اہل معاشرہ قائم کیا جا سکے۔

مریم نواز نے کہا کہ اس مضبوط معاشرے میں لوگ اپنی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں فخر کے ساتھ دیکھ سکیں، انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ علما کرام اور عوام کا حامی و ناصر ہو۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ کارڈ ایک آغاز ہے اور وہ اپنی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر مزید حصہ ڈالیں گی،انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے ملک میں عزت، سلامتی، امن اور اشتراک کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مریم نواز نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کے گھروں اور زندگیوں میں برکت عطا فرمائے، انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا: “پاکستان زندہ باد، بہت بہت شکریہ۔”