آسٹریلیا میں بیٹری سبسڈی سے سولر توانائی کا نیا انقلاب، بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک ) آسٹریلیا میں حکومت کی جانب سے گھریلو بیٹریوں پر دی جانے والی سبسڈی نے چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر انحصار بھی کم ہونے لگا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلوی حکومت کی بیٹری سبسڈی اسکیم کے تحت شہریوں کو گھریلو توانائی ذخیرہ کرنے والے بیٹری سسٹمز کی خریداری پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے ابتدائی لاگت میں تقریباً 30 فیصد تک کمی آئی ہے۔
64 سالہ پال ٹائلر، جو سڈنی کے شمال میں رہتے ہیں، نے سبسڈی کی بدولت اپنے گھر پر 18 سولر پینلز اور 28 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب کی۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 9 ہزار آسٹریلوی ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ ان کا ماہانہ بجلی کا بل 275 آسٹریلوی ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 50 ڈالر رہ گیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے مئی کے دوران آسٹریلیا میں گھریلو بیٹریوں کی تنصیب گزشتہ چھ برسوں کے مجموعی اضافے سے بھی زیادہ رہی۔ اس رجحان سے ٹیسلا، بی وائی ڈی، سنگرو اور فاکس ای ایس ایس جیسی بیٹری بنانے والی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2.5 کروڑ بچے سکول سے باہر، چونکا دینے والی رپورٹ
ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں ہر تین میں سے ایک گھر پر سولر پینلز نصب ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اب بیٹریوں کے بڑھتے استعمال سے دن میں پیدا ہونے والی بجلی شام کے اوقات میں بھی استعمال یا قومی گرڈ کو فراہم کی جا رہی ہے، جس سے بجلی کی تھوک قیمتوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً نصف آسٹریلوی گھرانے اب بھی سولر یا بیٹری سسٹم سے محروم ہیں، کیونکہ وہ کرائے کے گھروں یا اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں یا ان کی آمدنی محدود ہے۔ حکومت کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بلاسود قرضوں اور سماجی رہائش کے منصوبوں کے ذریعے اس فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق گھریلو بیٹریاں صرف بجلی ذخیرہ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل میں توانائی کے استعمال اور بجلی کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کا ایک نیا ماڈل بن رہی ہیں۔