سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئیں

Apr 06, 2024 | 12:55:PM
سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سولر پینلز اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ انہیں نیدرلینڈز اور جرمنی میں باغات کی باڑ بنانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق یورپی ممالک سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی کچھ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں نے سولر پینل گھر کی چھتوں پر لگانے کی بجائے باغات کی باڑ بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق عام طور پر سولر پینلز کا فائدہ تو چھت پر لگانے سے ہی ہوتا ہے مگر یورپ کے ان ممالک میں پینلز انسٹال کرنے کی لیبر اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ لوگ سولر پینلز کو فینسنگ کیلئے استعمال کرنا مناسب سمجھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سولر پینلز کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں چینی کمپنیوں کی جانب سے سولر پینل کی بڑھتی ہوئی پیداوار ہے۔ ضرورت سے زیادہ سولر پینلز کی سپلائی کے باعث مارکیٹ پر چین کی گرفت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے جس کا امریکہ اور یورپ کے مینوفیکچررز مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق عالمی سطح پر سولر پینل کی سپلائی اس سال کے آخر تک 1,100 گیگا واٹ یا موجودہ طلب سے تین گنا زیادہ ہو جائے گی،ایجنسی نے مزید کہا کہ 2023 میں سپاٹ مارکیٹ پر قیمتیں پہلے ہی نصف تک گر چکی ہیں اور 2028 تک ان میں مزید 40 فیصد کمی کا امکان ہے،جہاں دنیا بھر میں سولر پینلز سستے ہوئے ہیں وہیں پاکستان میں بھی ان کی قیمتوں میں واضع کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

 گزشتہ برس بھی شمسی توانائی سے بجلی بنانے والے پینلز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی،مارکیٹ میں اس وقت سات سے 15 کلو واٹ سسٹم کی قیمت دو لاکھ روپے تک گری ہے،سولر پینلز کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ مختلف عوامل کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے اور ابھی کچھ وقت تک قیمتوں میں مزید کمی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافہ