پہلے دو لاکھ، پھر سات لاکھ اور پھر بیس لاکھ ڈالر مانگے، اغوا ہونے والی غیر ملکی خاتون کا بیان سامنےآگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(جمال الدین جمالی) دو غیرملکی خواتین کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے معاملہ کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔ دوسری متاثرہ خاتون سٹیفنی اینڈریانا کے سیکشن 164 کے بیان کے مندرجات بھی سامنے آ گئے ہیں۔
لاہور میں اغوا ہو کر زیادتی کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون سٹیفنی اینڈریانا نے لاہور میں بازیاب کروائے جانے کے بعد لاہور کے میجسٹریٹ کے روبرو اپنے بیان میں بتایا کہ رضا ڈار اکتوبر 2025 سے ہمارا بزنس پارٹنر ہے۔
خاتون نے بتایا کہ ہم رضا ڈار کی دعوت پر ہی پاکستان آئے اور اسی نے ویزے کا بندوبست کیا تھا۔ ہمارے یہاں آنے کا مقصد نئے انویسٹرکو کمپنی میں شامل کرنا تھا۔ ہم 26 جون کو اسلام آباد پہنچے، رضا ڈار نے ہوٹل میں ملاقات کی۔
خاتون نے بتایا کہ 27 جون کو رضا ڈار ہمیں نتھیاگلی لے گیا۔ 28 جون کو رضا ڈار نے انویسٹرز کے ساتھ ہماری ملاقات کروائی۔ 29 جون کو رضا ڈار ہمیں لاہور لے کر آیا۔
سٹیفنی اینڈریانا نے بتایا کہ لاہور آنے کے بعد رضا ڈار ہمیں اپنی رشتے دار کے گھر لے گیا جہاں اس کی آنٹی کی سالگرہ تھی۔ وہاں جانے کے لئے رضا ڈار نے ایک کیک خریدا جس پر ہیپی برتھ ڈے آنٹی شمیم لکھا تھا۔
ہم اس گھر میں انتظار کر رہے تھے، وہاں 4 مسلح افراد آئے جنہوں نے ہمیں رسیوں سے باندھ دیا۔ وہ لوگ ہم پر چیخے، چلائے اور ہمیں تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
اغوا ہو کر تشدد کا نشانہ بننے والی اس خاتون سٹیفنی اینڈریانا نے مزید بتایا کہ اس دوران رضا ڈار بھی خود کو مظلوم ہونے کا تاثر دے رہا تھا۔ ان مسلح افراد نے پہلے 2 لاکھ ڈالر اور پھر 7 لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے رقم بڑھاتے ہوئے 2 ملین ڈالر تک ڈیمانڈ کی۔
سٹیفنی اینڈریانا نے بتایا کہ میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی رقم نہیں تو انہوں نے کہا رقم نہ ملی تو تمہیں مار کر باڈی پارٹس (جسم کے اعضا) فروخت کردیں گے۔
سٹیفنی اینڈریانا نے اپنے بیان مین بتایا کہ وہ لوگ تمام رات ہم پر تشدد کرتے رہے ، مجھے اور آسٹر کو انہوں نے الگ الگ کمروں میں بند رکھا۔
سٹیفنی اینڈریانا نے انکشاف کیا کہ رضا ڈار اور دیگر لوگ کسی کو کال کرکے اسے باس کہہ رہے تھے۔ انہوں نے زبردستی میرے بھائیوں اور والدین کو رقم کیلئے وائس نوٹ بھجوائے۔
خاتون نے بتایا کہ ہمارے خاندان میں خطرے کے وقت ایک دوسرے کو آگاہ کرنے کے لئے پہلے سے ایک کوڈ ورڈ طے تھا کہ وہ بولنا ہے۔ میں نے کوڈ ورڈ بولا تو انہوں نے فوری طور پر پولیس کو کال کردی۔ میں نے جن جن دوستوں کو وائس نوٹ بھیجا اس میں کوڈ ورڈ کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: فیفا ورلڈ کپ کا بہترین میچ؛ ارجنٹینا نے کیپ وردی کو 2-3 سے شکست دے کر اپنا تاج بچالیا
خاتون نے بتایا کہ میرے فون سے رضا ڈار اور اس کے باس نے 17 ہزار ڈالر اپنے کرپٹو والٹ میں منتقل کیے۔ ان اغواکاروں نے یکم جولائی کو میری والدہ سے میری بات کروائی۔
خاتون نے بیان میں بتایا کہ ایک شخص نے مجھ سے زیادتی کی کوشش کی تو میں نے کہا میں کنواری ہوں تو وہ رک گیا۔ اغواکار مجھ پر تھوڑا اعتماد کر رہے تھے اور انہوں نے میرے ہاتھ کھول دیئے تھے۔ یکم جولائی کو رضا ڈار اور باس گھر میں نہیں تھے تو انہوں نے مجھے واک کی اجازت دے دی تھی۔ اغواکاروں نے ہمیں بتایا کہ وہ شام کو ہمیں آزاد کردیں گے۔
سٹیفنی اینڈریانا نے مزید بتایا کہ اغوا کار کسی کو ویڈیو کال کرکے ہمیں بھی دکھا رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے۔
شام کے وقت رضا ڈار آیا اور اس نے کہا کہ اس نے تمام رقم باس کو دےدی ہے لہذا اب تم لوگ آزاد ہو۔
خاتون نے بتایا کہ اس کے بعد اغواکاروں نے ہمارا سامان واپس کردیا لیکن الیکٹرانک اشیا اور جیولری واپس نہیں دی۔
خاتون نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک شخص تقریبا 46 سال کا اور دوسرا 36 سال کا تھا ۔ اغواکاروں نے کہا کہ اگر تم لوگ رضا اور باس کو اس سامان کا نہیں بتاؤگی تو ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ رضا ڈار نے میرا فون مجھے واپس کیا ،جس سے میں نے اپنی والدہ کو کال کی۔ میری والدہ نے اصرار کیا کہ ہمیں فوری طور پر ایئرپورٹ جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیئے: رضا ڈار نے کتنے ڈالر وصول کئے، شکایت کہاں سے آئی؟ غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا، برآمدگی کا معاملہ کھل گیا
خاتون نے انکشاف کیا کہ رضا نے ہم سے کہا کہ ہم ایئرپورٹ جا رہے ہیں مگر موبائل لوکیشن کے مطابق وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ رضا کسی کو کال کر رہا تھا اور اس کو "جی باس" کہہ کر ہماری لوکیشن بھیج رہا تھا.
خاتون نے بتایا کہ رضا آہستہ گاڑی چلا رہا تھا۔ ہم نے شور کیا کہ گاڑی تیز چلاؤ۔ اس دوران ہماری گاڑی کی ایک گاڑی سے ٹکرہوئی جس کے بعد میں اور آسٹر چھلانگ لگاکر اس گاڑی میں سے کود گئیں۔ ہم دونوں شور مچاتے ہوئے ایک مکینک کی دکان میں گھس گئیں۔
اس مکینک کی دکان میں ٹریفک پولیس والا آیا جنہوں نے ہمیں پولیس کے حوالے کیا۔
خاتون نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ اس پولیس والے کی گاڑی میں بیٹھ کر ہم ان پر اعتماد نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے گاڑی روکی تو ہم اس گاڑی سے بھی کود گئیں۔
ایک دوسری پولیس کار وہاں پہنچی اور انہوں نے ہمیں ثبوت دکھائے وہ اسی کیس پر کام کر رہے ہیں۔ ایک خاتون پولیس اہلکار ہمارے پاس آئی اور ہمیں تسلی دے کر پولیس سٹیشن منتقل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشری بی بی کی قید تنہائی کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت