تین ماہ میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(زاہد گشکوری) تین ماہ کے دوران 3,600 نئے کیسز دائر ہوئے اور 5,383 کیسز نمٹائے گئے۔ سپریم کورٹ میں لٹکے ہوئے مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی۔
آج منگل کے روز چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں اصلاحات کے متعلق 10 ویں جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اس اجلاس میں یہ بات سامنے ٓٓئی کہ تین ماہ کے وران سپریم کورٹ میں اصلاحات کے نتیجہ میں زیر التوا کیسز کی کل تعداد کم ہو کر 34,083 رہ گئی ہے۔ نئے سال کے ان تین مہینوں میں سنگین جرائم کے متعلق عدالت عظمیٰ میں لٹکے ہوئے مقدمات پر خاص توجہ دی گئی۔
چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس یحیٰ آفریدی نے مقدمات نمٹانے کی شرح اور بہتر کیس مینجمنٹ کو سراہا۔
عدالتی اصلاحات سے متعلق اجلاس میں وفاقی محتسب اور سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن سمیت دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔
کیس نمٹانے،کیسز کی درجہ بندی، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور آئی ٹی انٹیگریشن کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں عوامی سہولت کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے عدلیہ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیئے: ایم ڈی کیٹ کا امتحان اب ایف ایس سی رزلٹ کے چھ روز بعد ہوگا
اکتوبر 2024 میں سزائے موت کے زیر التوا کیسز کی تعداد 384 تھی جو اب کم ہو کر صرف 60 رہ گئی ہے۔
سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں اگلے 30 دنوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔
سالانہ بیک لاگ ختم کرنے کیلئے 2018 تک دائر ہونے والے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر نے گزشتہ تین ماہ میں تقریباً 20,802 سروس درخواستوں پر سہولت فراہم کی ہے۔
