تاریخ کابدترین سیلاب، اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے:ڈی جی پی ڈی ایم اے

پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی میں کل تک ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی پہنچے گا،

Aug 31, 2025 | 12:01:PM
تاریخ کابدترین سیلاب، اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے:ڈی جی پی ڈی ایم اے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز) ڈائریکٹر جنرل پروونشل  ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، سیلاب سے 33 افراد جاں بحق اور 20 لاکھ متاثر ہوئے جبکہ 2200 دیہات زیر آب آ گئے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی ڈی ای ایم اے عرفان علی کاٹھیانے بتایاکہ  دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کا مقام پیک پکڑ رہا ہے اور اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے، یکم کو سات لاکھ کیوسک ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہوگا، 4 ستمبر کو یہ سارا پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہوگا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب میں مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی، سیلاب کے ساتھ اربن فلڈنگ سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، ہماری رپورٹ کے مطابق اب تک 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان تمام افراد کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، ریسکیو کے ساتھ پاک فوج نے بھی سیلابی صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا، ہم نے لوگوں کے جانوروں کو بھی محفوظ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے انسانی جانوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ ہر وقت دریاؤں پر موجود ہے اور صورتحال کا جائزہ لی رہی ہے،ستلج کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے اور 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی ہیڈ سلیمانی کے مقام پر پانی موجود ہے جبکہ 1 لاکھ کیوسک پانی بہاولپور کے قریب دریاؤں میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت نے سلال ڈیم کے تمام دروازے کھول دئیے،چناب میں بڑاسیلابی ریلا،وارننگ جاری
ڈی جی پی ڈی ایم اے نےکہاکہ 6 سے 7 دونوں میں اگر پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم پھر مزید ان علاقوں پر کام کر سکتے ہیں، ہماری زیادہ توجہ زیر آب علاقوں میں ہیں تاکہ ان کو جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔