مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار باہمی ذمہ داریوں کی تکمیل پر منحصر ہوگا: ایرانی صدر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے طے شدہ ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد اور ان کی درست تکمیل پر ہے۔
صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کے تحت قبول کی گئی ذمہ داریوں پر عملی طور پر عمل کرنا ہی پیش رفت کا حقیقی معیار ہوگا۔
The effectiveness of the talks depends on full commitment to the agreed obligations and their precise implementation.Progress on this path will be measured by practical adherence to accepted responsibilities.Statements outside the agreed text do not help advance the negotiations.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) June 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ طے شدہ متن سے ہٹ کر دئیے جانے والے بیانات مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔
ایرانی صدر نے اگرچہ کسی مخصوص بیان کا نام نہیں لیا تاہم مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی جانب ہو سکتا ہے جن پر ایرانی حکام نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عام تعطیلات کا اعلان
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے لیے جاری کیے جانے والے منجمد فنڈز امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے۔
تاہم ایرانی حکام ان دعوؤں کی تردید کر چکے ہیں، ایرانی مرکزی بینک اور دیگر سرکاری عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ ایران پر امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کی کوئی پابندی یا لازمی شرط عائد نہیں کی گئی اور ملک اپنی ضرورت اور مفاد کے مطابق فیصلے کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پزشکیان کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مذاکراتی عمل میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ معاہدے کی تشریح کے حوالے سے یکطرفہ بیانات کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دے رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کا مقصد جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا، اقتصادی معاملات کو آگے بڑھانا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے تاہم متعدد اہم امور پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی اختلافات موجود ہیں۔