اسرائیل کی سپریم کورٹ میں نیتن یاہو کے حامیوں کا ہنگامہ، ججوں کو عدالت چھوڑ کر جانا پڑگیا

Apr 23, 2026 | 23:29:PM
 اسرائیل کی سپریم کورٹ میں نیتن یاہو کے حامیوں کا ہنگامہ، ججوں کو عدالت چھوڑ کر جانا پڑگیا
کیپشن: سات  اکتوبر 2023کے حملے اور مظالم کی انکوائری کے ریاستی کمیشن کی مخالفت کرنے والے نیتن یاہو کے حامی سپریم کورٹ  کی سماعت کے دوران عدالت کے کمرہ کے  باہر احتجاج کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت سے ایسا کمیشن قائم کرنے کے لئے نہ کہا جائے، 23 اپریل 2026 (فوٹو: یوناتن سنڈیل/Flash90)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  نیتن یاہو کی حکومت کے حامیوں  نے 7 اکتوبر کی انکوائری سماعت میں زبردستی گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے یروشلم میں سپریم کورٹ میں دھینگا مشتی کی، عدالت کے ججوں کو اٹھ کر اپنے کمروں میں واپس جانا پڑا۔
پرائم منسٹر نیتن یاہو کے حامیوں کے  ہجوم نے آج سپریم کورٹ میں ایک انکوائری کی سماعت کے دوران زبردستی عدالت میں گھسنے کی کوشش کی، دھکم پیل ہوئی جو دھینگا مشتی اور ہنگامے میں بدل گئی۔ اس دوران سکیورٹی سٹاف کی درخواست پر عدالت کے ججوں نے عدالت کا کمرہ چھوڑ کر اپنے کمروں میں جانا قبول کر لیا اور سماعت 20 منٹ تک ملتوی رہی۔

"سات اکتوبر کے حملوں کی ریاستی کمیشن سے تحقیقات"

اسرائیل میں فوج، شین بیٹ اور بہت سے  دوسرے ادارے 7 اکتوبر  2023 کی صبح اچانک ہونے والے حماس کے حملوں کو روکنے میں ناکامی کے معاملہ کی گہری تحقیقات کروانے کے لئے "ریاستی کمیشن" بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔  وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت اس تحقیقاتی کمیشن کو بنانے سے مسلسل انکار کر رہی ہے۔  فوج اور شین بیٹ اپنے اپنے ادارہ کی سطح پر تحقیقات کر کے ناکامیوں کا تعین اور اعتراف  کر چکے ہیں۔ لیکن شین بیت کے سابق سربراہ نے اور خود فوج کے  لوگوں نے یہ کہا کہ اس سارے معاملہ کی ریاستی تحقیقاتی کمیشن سے تحقیقات ہونا ضروری ہے۔ "ریاستی تحقیقاتی کمیشن" پالیسی لیول پر اور فیصلہ سازی کے عمل کی بھی چھان بین کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور ان کے لئے  فوجداری مقدمہ چلانے کے لئے اٹارنی جنرل کو سفارش بھی کر سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل ایک خودمختار ادارہ/ ہستی ہے جو حکومت کے کسی عہدیدار پر فوجداری مقدمہ کی سفارش آنے پر کچھ بھی کر سکتا ہے۔

اس تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے سے  نیتن یاہو کی حکومت کے انکار پر  اس معاملہ کو اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت میں اپیل کر دی گئی۔ وہاں آج سماعت ہوئی تو عدالت کے باہر  نیتن یاہو کے حامیوں نے ’ججوں کو جج کرو‘ کے نعرے لگائے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ کے جج  اسرائیلی کنیست کے کچھ ماہ بعد ہو رہے الیکشن کے بعد تک  سات اکتوبر حملوں کی انکوائری کے متعلق فیصلے میں تاخیر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک غالب رائے یہ ہے کہ اب اگر اس ریاستی کمیشن کی انکوائری شروع ہوئی بھی تو اسے الیکشن سے پہلے مکمل کرنا مشکل ہو گا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے آج رپورٹ کیا کہ  جمعرات کو ہائی کورٹ آف جسٹس میں واقعات اس وقت افراتفری کا شکار ہو گئے جب کم از کم ایک فرد نے کمرہ عدالت میں گھسنے کی کوشش کی، اور حکومت کے حامی ہجوم نے عدالت کے کمرہ میں رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے باہر جمع ہو  کر نعرے لگائے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا  جب کہ 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملے اور مظالم کی تحقیقات کے لئے  ریاستی کمیشن کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں پر سماعت ہو رہی تھی۔

عدالت کے  سکیورٹی اہلکاروں نے ججوں کو کمرہ عدالت خالی کرنے کا مشورہ دیا اور تقریباً 20 منٹ کے لیے عدالت کی کارروائی روک دی گئی۔

ہائی کورٹ کی زیادہ تر سماعتیں حاضرین کے ساتھ ہوتی ہیں، لیکن عدالت نے بدھ کی رات اس خاص معاملہ کی سماعت میں عوام کے بیٹھنے  پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا، خاص طور پر "رکاوٹوں، خلفشار اور غصے کے خدشات" کی وجہ سے جس کی وجہ سے ججوں کو خدشہ تھا کہ سماعت ناممکن ہو جائے گی۔

ججوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے نیتن یاہو کے حامیوں کے نعرے 

سماعت کے تقریباً دو گھنٹے بعد، ایک خاتون نے زبردستی اندر جانے کی کوشش کی اور عدالتی سکیورٹی کے ذریعے باہر نکالے جانے کے بعد، حکومت کے حامیوں کا ایک ہجوم کمرہ عدالت کے باہر جمع ہو گیا، اور "ججوں کو جج کرو" کے نعرے لگاتے ہوئے اندر جانے کا مطالبہ کیا۔

توڑ پھوڑ کی کوشش سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر بدصورت مناظر کے بعد ہوئی جب سیاسی گلیارے کے مختلف اطراف میں سوگوار خاندان اس بات پر باہمی تنقید میں مصروف تھے کہ 7 اکتوبر کی تباہی کا ذمہ دار کون تھا، جب حماس کے زیرقیادت ہزاروں  دہشت گردوں نے اسرائیل کے کئی دیہات میں گھس کر  اور ایک میوزک فیسٹیول مپر حملہ کر کے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا تھا  اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

عمارت کے اندر اور کمرہ عدالت کے اندر بھی زبانی لڑائی جاری رہی۔حملے کا نشانہ بننے والے ایک خاندان کے دو نمائندوں کو سپریم کورٹ کے نائب صدر نوم سہلبرگ کی طرف سے بولنے کی اجازت دی گئی  تو  انہوں نے الٹا عدالتِ عظمیٰ  پر ہی حماس کے حملے کی ذمہ داری کا الزام لگا دیا۔ 

سماعت کے دوران ہی، ججوں نے 7 اکتوبر کے تباہ کن واقعات پر کسی بھی قسم کی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل میں حکومت کی ناکامی پر سخت تنقید کی اور حکومت کے وکیل نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی موجودہ جنگوں کے تمام محاذوں پر فتح کے بعد ہی تحقیقات کا کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے۔

عدالت اس درخواست پر فیصلہ الیکشن کے بعد کیوں نہ سنائے؟ ججوں کا اٹارنی جنرل سے استفسار

اس کے باوجود، جسٹس سولبرگ اور جسٹس ییل ولنر نے اٹارنی جنرل کے دفتر کے نمائندے سے واضح طور پر پوچھا کہ کیا عدالت کے لیے اس معاملے پر فیصلہ سنانے کے لیے زیر التواء عام انتخابات کے بعد تک انتظار کرنا بہتر نہیں ہوگا، اور عدالت کے حکم پر تحقیقاتی کمیشن کے عوامی جواز پر تشویش کا اظہار کیا۔

"انتخابات بہت قریب ہیں، اور ہم اس کمیٹی پر عوام کا اعتماد چاہتے ہیں، اگر ہم یہاں تک پہنچے ہیں تو کیا انتخابات کے بعد اسے حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے؟" سہلبرگ نے پوچھا۔

Caption    آج 23 اپریل، 2026 کو یروشلم میں ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر عدالت کے دروازے پر 7 اکتوبر کو انکوائری کے ریاستی کمیشن کی مخالفت کرنے والے ہجوم کے ارکان

نیتن یاہو  ریاستی تحقیقاتی کمیشن سے کیوں ڈرتے ہیں؟

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے 7 اکتوبر کی تباہی میں تحقیقاتی اختیارات کے ساتھ واحد دستیاب آزاد عوامی فورم، ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے سے ثابت قدمی سے انکار کیا ہے۔

نیتن یاہو نے پہلے استدلال کیا کہ  ملک ابھی بھی حالت جنگ میں تھا اس لئے  تحقیقات شروع نہیں ہو سکتی تھیں، لیکن پھر بعد میں دعویٰ کیا کہ ایک ریاستی کمیشن اس (حکومت) کے خلاف متعصب ہو گا کیونکہ نیتن یاہو  کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ کے صدر اسحاق امیت کا لبرل لوگوں کی طرف جھکاؤ ہے، ۔ اگر تحقیقاتی کمشین بنا تو سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس اسحاق امیت ہی اس کے ارکان کا تقرر کرنے کے مجاز ہیں۔  حکومت نے آج سماعت کے دوران عدالت میں یہ دعویٰ نہیں کیا، تاہم، اس لیے اس امکان کو چھوڑ کر کہ عدالت اس طرح کی تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے،  اس کے بجائے یہ دلیل دی کہ صرف کابینہ یا کنیست کو ریاستی کمیشن آف انکوائری قائم کرنے کا اختیار حاصل ہے -

ناقدین نے بار بار حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس قتل عام کو اپنی نگرانی میں ہونے کی اجازت دینے کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جمعرات کو، کمرہ عدالت میں گھسنے کی کوشش کی حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مذمت کی ہے جنہوں نے نیتن یاہو اور کابینہ کے دیگر وزراء پر  لوگوں کو  عدالت اور اس کے ججوں کے خلاف "اُکسانے" کی وجہ سے صبح کے واقعات کی حتمی ذمہ داری کا الزام لگایا۔

یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک خاتون کمرہ عدالت کے بیرونی دروازے سے داخل ہوئی اور پھر ایک سکیورٹی گارڈ نے اسے واپس باہر نکال دیا۔ وہ خود کمرہ عدالت کے اندرونی دروازے سے گزرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

اس کے بعد مظاہرین کا ایک ہجوم بیرونی دروازوں کے باہر جمع ہوا، دروازوں کو  محافظوں نے بند کر دیا تھا، ہجوم نے عدالت  کے مخالف نعرے لگائے، ان کے نعروں میں "ججوں کو جج کرو" جیسا نعرہ بھی شامل تھا اور اور سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس اسحاق  امیت کو "ایک آمر" قرار دینے والے نعرے بھی شامل تھے۔ساتھ ہی سد ہجوم نے سماعت میں جانے کا مطالبہ بھی کیا۔

ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون کو کمرہ عدالت کا دروازہ پیٹتے ہوئے دیکھا گیا اس کے بعد سکیورٹی گارڈز نے اسے روکا۔

واقعے کے دوران، عدالت کے سیکیورٹی گارڈز کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور انہوں نے جسٹس سہلبرگ سے کہا کہ انہیں سماعت کو کچھ دیر کیلئے روکنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد  سکیورٹی اہلکاروں ک یطرف سے ججوں کو کمرہ عدالت چھوڑ کر اپنے دفاتر  میں جانے کو کہا گیا۔

Caption آج جمعرات 23 اپریل 2026 کو ریاستی کمیشن آف انکوائری کے قیام کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت سے قبل یروشلم میں سپریم کورٹ کے باہر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے متاثرین کے غمزدہ خانداوں کے افراد مین سے کچھ   ریاستی کمیشن کے قیام کی حمایت اور کچھ مخالفت  کر رہے ہیں۔ (فوٹو: Yonatan Sindel/Flash90)


سماعت تقریباً 20 منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی تاکہ عدالت کی سکیورٹی کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے بنایا جا سکے۔ جسٹس سہلبرگ نے ایک مختصر بیان کے ساتھ کارروائی دوبارہ شروع کی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ لوگوں کے اندر گھسنے کی کوشش کی وجہ سے ججز عدالت کے  ہال سے چلے گئے تھے۔

سماعت شروع ہونے سے پہلے، سیاسی تقسیم کے مخالف فریقوں کے خاندانوں نے بھی، جن میں سے سبھی 7 اکتوبر کو یا اس کے بعد کی جنگ کے دوران اپنے رشتہ داروں سے محروم ہو گئے تھے، نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا اور ایک دوسرے پر اس سوال پر نعرے لگائے کہ 7 اکتوبر کی تباہی کی تحقیقات کیسے ہونی چاہیے۔

جائے وقوعہ سپر بننے والی فوٹیج میں سوگوار خاندانوں کو حکومت کی حمایت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ لوگ  7 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری کی تحقیقات کے لیے "ریاستی کمیشن کی تحقیقات"  کا مطالبہ کرنے والوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ معاملہ کو وائت واش کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے حامیوں نے التا ججوں پر ہی  قتل عام کے لیے "دروازے کھولنے" کا الزام لگایا۔

اس تنازعہ میں  دوسری طرف موجود خاندانوں نے اصرار کیا کہ یہ حکومت ہی ہے جو ریاستی کمیشن کی تقرری سے انکار کر کے تباہی کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، اور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ حماس کے حملے اور قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

عدالت کی سماعت میں کیا ہوا؟کوئی بھی تحقیقات کیوں نہیں کروائی؟ ججوں کی حکومت پر تنقید 

کمرہ عدالت کے اندر، ججوں نے اسرائیل کی ریاست پر اب تک کے بدترین حملے کے بارے میں کسی بھی قسم کی انکوائری قائم کرنے میں ناکامی پر حکومت کی سخت تنقید کی۔

حکومت کے وکیل مائیکل رابیلو نے اصرار کیا کہ عدالت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ حکومت کو تحقیقات کا ریاستی کمیشن قائم کرنے کا حکم دے کیونکہ قانون اکیلے کابینہ یا کنیسٹ کو ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

Caption   سپریم کورٹ کے  نائب صدر نوم سہلبرگ 7 اکتوبر کے حملے کی تحقیقات کے ریاستی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں کی سماعت کی صدارت کر رہے ہیں، 23 اپریل، 2026 (یوناٹن سنڈیل/Flash90)


لیکن ججوں نے سرکاری وکیل رابیلو کو یاد دلایا کہ اسی نوعیت کے پچھلے مقدمات میں عدالت نے کہا ہے کہ وہ "انتہائی بے قاعدہ اور نایاب مقدمات" میں مداخلت کر سکتی ہے۔

"ہائی کورٹ کے تمام فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ عدالت کو غیر قانونی اور انتہائی حالات میں مداخلت کرنے کا اختیار ہے، کیا یہ ایک بے قاعدہ صورت حال ہے؟" جسٹس ییل ولنر نے رابیلو سے مطالبہ کیا۔

ولنر کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے،جسٹس  سہلبرگ حکومت کے اس معاملے سے نمٹنے کے بارے میں سخت تنقید کر رہے تھے۔

"کیا حکومت کا فیصلہ انتہا نہیں ہے؟" جسٹس سہلبرگ نے حکومت کی جانب سے ایک ریاستی کمیشن آف انکوائری کے قیام سے انکار کے حوالے سے پوچھا  اس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے کہا کہ حکومت  کمیشن ااف انکوائری کے ارکان کا تقرر خود کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے اس نے قانون سازی کیوں نہیں کی؟

"عملی طور پر، کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ کیا یہ انتہائی صورتحال نہیں ہے؟ حکومت کے طرز عمل کا کون سا حصہ اس وقت تک انتہائی نہیں رہا؟" جسٹس سہلبرگ نے سرکاری وکیل سے سوال  کیا۔

تحقیقاتی کمیشن تو  کوئی جنگ جیتنے کے بعد ہی بننا چاہئے، سرکاری وکیل کی منطق

سرکاری وکیل رابیلو اس کے باوجود اپنی دلیل پر قائم رہا، اور یہاں تک کہ یہ کہہ دیا کہ کسی بھی تحقیقاتی کمیشن کو تمام محاذوں پر موجودہ جنگیں جیتنے کے بعد ہی قائم کیا جانا چاہیے، اس بے سر و پا بات سے کچھ جج حیران رہ گئے۔

"تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا وقت ابھی مناسب نہیں ہے۔ اب ہم بہت نازک جنگ بندی میں ہیں۔ مجھے ڈر تھا کہ ہم سماعت تک نہیں پہنچ پائیں گے،" رابیلو نے کہا، "ابھی اہم بات یہ ہے کہ ریاست اسرائیل تمام محاذوں پر لڑائی جیت جائے گی۔"

جسٹس  ولنر سرکاری وکیل رابیلو کے تبصروں پر حیران نظر آئے اور پوچھا، "جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ہم اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ تین سے چار سال پہلے کیا ہوا تھا؟"  جسٹس ولنر نے سرکاری وکیل کے اس دعوے کو "ایک بم شیل" قرار دیا۔

لیکن اس کے باوجود ججز آئندہ انتخابات سے قبل اس طرح کے آتش گیر اور متنازعہ معاملے میں مداخلت کرنے کی حکمت کے بارے میں محتاط نظر آئے۔

جسٹس سولبرگ نے کہا، "اس وقت ریاستی کمیشن کے قیام کے عدالتی حکم کی بہت بھاری قیمتیں ہیں۔"

"انتخابات بہت قریب ہیں، اور ہم اس کمیٹی پر عوام کا اعتماد چاہتے ہیں، اگر ہم یہاں تک پہنچے ہیں تو کیا انتخابات کے بعد اسے حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے؟"جسٹس سولبرگ نے پوچھا

جسٹس ییل ولنر نے بھی اسی طرح کے ریمارکس دیتے ہوئے کہا، "شاید اسے عوام پر چھوڑ دیا جائے، عوام انتخابات میں اپنی رائے دیں گے۔"

جسٹس ولنر نے اٹارنی جنرل اور حکومت کے درمیان سمجھوتہ کرنے کے معاہدے کی تجویز پیش کرنے کی بھی کوشش کی، یہ تجویز پیش کی کہ سیاسی طور پر مقرر کردہ کمیشن آف انکوائری کے لیے حکومت کے کسی مسودہ قانون کی بنیاد کو فوری طور پر ایک کمیٹی آف انکوائری قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے  اس کے لئے اسے  قانون سازی میں پاس کرنے کی ضرورت ہ نہیں ہے۔

جسٹس ولنر کی اس رائے سے  اٹارنی جنرل کے نمائندہ  یوناتن برمن،  نے شدید اختلاف کیا۔ وہ  اس طرح کی تجویز پر انتہائی شکی نظر آئے، اٹارنی جنرل کے نمائندہ نے  اصرار کیا کہ 7 اکتوبر کی شدت کی تباہی کی تحقیقات کے لیے صرف ایک ریاستی کمیشن ہی موزوں ہے۔

تقریباً پانچ گھنٹے کی بحث کے بعد سماعت ختم ہوئی۔ ججوں نے سمجھوتہ کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی، سوہلبرگ نے صرف یہ کہا کہ عدالتی پینل کو اس معاملے کا مزید مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔