نورِ سحر میں ''حقیقی تصوف۔۔۔خدمت انسانیت/انداز رحمت '' کے موضوع پر روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ محبت، اخوت اور رواداری ہماری تہذیبی بنیادیں تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ اوصاف ماند پڑتے جا رہے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع'' حقیقی تصوف۔۔۔خدمت انسانیت/انداز رحمت ''تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ محبت، اخوت اور رواداری ہماری تہذیبی بنیادیں تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ اوصاف ماند پڑتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت علی ہجویریؒ کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان بزرگوں نے کردار، محبت اور شفقت سے دلوں کو فتح کیا۔
پروفیسر حافظ محمد اعظم نوری نے کہا کہ تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے صوفیائے کرام کے اقوال اور واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تصوف کی اصل روح خدمتِ خلق ہے، خواجہ حمید الدین ناگوریؒ کے واقعے کا ذکر بھی کیا گیا جس میں واضح ہوا کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل مخلوقِ خدا کو راحت پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی نیکی معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت اور ضرورت مندوں کی مدد میں ہے، یہ بھی کہا گیا کہ اسلام پڑوسی کے حقوق پر جس طرح زور دیتا ہے، اس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔
ڈاکٹر سید عرفان مخدوم نیر نے کہا کہ دولت اور مرتبہ محض ذاتی ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے، جسے مخلوقِ خدا کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا اصل دین ہے۔
انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے ایک سوال کے جواب میں دین کی اصل بنیاد کو محبت قرار دیا،اسلام محبت سے پھیلتا ہے، نفرت سے نہیں۔
پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے کہا کہ آج تصوف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ این میری شمل کے مطابق تصوف اسلام کا حاشیہ نہیں بلکہ اس کی روح ہے۔
انہوں نے حضرت داتا گنج بخشؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ اور بابا فریدؒ کی انسان دوستی، کرم نوازی اور رواداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی اوصاف کی بدولت اسلام برصغیر میں پھیلا۔
انہوں نے حضرت علیؓ کے حضرت کمیلؓ کو دیے گئے ارشادات بیان کیے کہ علمِ باطن صرف انہی کو عطا ہوتا ہے جو اخلاص، محبت اور انسان دوستی کے مقام پر قائم ہوں۔