چینی بلٹ ٹرین کا 5 سیکنڈ میں 800 کلو میٹر فی گھنٹہ کا نیا عالمی ریکارڈ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )چینی سائنس دانوں نے میگلیو ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، تجرباتی ٹرین کو صرف 5.3 سیکنڈ میں صفر سے 800 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچا دیا۔
چین میں تقریباً 2,550 پاؤنڈ (تقریباً 1,157 کلوگرام) وزنی ایک تجرباتی میگ لیو (maglev) ٹرین نے حال ہی میں مختصر فاصلے پر تیز رفتاری کا اپنا عالمی ریکارڈ 6 ماہ کے دوران تیسری مرتبہ توڑ دیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ مختصر فاصلے پر تیز ترین ایکسیلیریشن کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔
اس ٹرین کی رفتار کمرشل ہوائی جہاز کی رفتار کے قریب پہنچ گئی ہے، بلٹ ٹرین کا یہ تجربہ ڈانگہو لیبارٹری نے کیا، تاہم اس میں بیٹھ کر سفر کرنا فی الوقت ممکن نہیں ہے، یہ ایک تجرباتی ٹرین ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ امریکا میں میگ لیو ٹرینیں موجود نہیں ہیں، جب کہ چین، جاپان اور یورپ کے بعض حصوں میں یہ کئی دہائیوں سے نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں۔
یہ ٹرینیں مقناطیسی کوائلز کے ایک خصوصی نظام کے ذریعے 200 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر مسافروں کو محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچاتی ہیں۔ یہ کوائلز متبادل برقی مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔ نظام فعال ہونے کے بعد مقناطیسی کرنٹ ٹرین کو زمین سے اٹھانے کے ساتھ ساتھ تیزی سے آگے کی جانب دھکیلتے ہیں، جس سے روایتی ریل گاڑیوں کی نقل و حرکت میں درپیش رگڑ کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔
دنیا کی تیز ترین تجارتی میگ لیو ٹرین چین کی Fuxing rail ہے، جو زیادہ سے زیادہ 217 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرتی ہے اور اپنی 635 میل طویل پٹڑی پر اوسطاً 197 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔
ڈانگہو لیب اس سے کہیں زیادہ طاقت ور نظاموں پر تجربات کر رہی ہے، جون 2025 میں اس تجرباتی گاڑی کی پہلی عوامی آزمائش کے دوران اس نے 7.1 سیکنڈ میں تقریباً 404 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی، جس کے نتیجے میں مختصر فاصلے پر میگ لیو ٹرین کی تیز رفتاری کا پہلا عالمی ریکارڈ قائم ہوا۔
اسی سال جولائی میں انجینئروں نے زیادہ سے زیادہ رفتار بڑھا کر 433 میل فی گھنٹہ کر دی، اور پھر نومبر میں اسے دوبارہ بڑھا کر 496 میل فی گھنٹہ کر دیا۔ ان تجربات سے متعدد نئی بنیادی تکنیکی پیش رفتوں کی تصدیق ہوئی، جن میں ہائی پاور توانائی کی ترسیل، ٹرین کو مقناطیسی طور پر معلق رکھنے کا کنٹرول، پوزیشننگ، برقی مقناطیسی پروپلشن اور ہنگامی بریکنگ شامل ہیں۔
ان تیز رفتاری کے ریکارڈز کو محفوظ طریقے سے حاصل کرنے کے لیے انتہائی درستگی ناگزیر ہے۔ 2,550 پاؤنڈ وزنی ٹرین کار حالتِ سکون میں خاصی بھاری ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے چند ہی سیکنڈ میں اتنی زیادہ رفتار تک پہنچانے کے لیے انتہائی زیادہ قوت اور توانائی درکار ہوتی ہے۔ تاہم ان رفتاروں پر تجرباتی ٹرین نسبتاً ہلکی محسوس ہوتی ہے، جس کے باعث پٹڑی میں انحراف کو صرف 0.5 ملی میٹر تک محدود رکھنا ضروری ہے۔ کنٹرول سسٹمز کو بھی اسی درجے کی درست پوزیشننگ یقینی بنانا ہوتی ہے تاکہ گاڑی اپنے مقررہ عملی حدود کے اندر رہے۔
تاہم مجموعی بنیادی ڈھانچے کے اخراجات، توانائی کی ضروریات اور حفاظتی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجینئرز کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ تر راکٹ سازی اور فوجی طیاروں میں کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ زمین پر طیاروں جیسی رفتار سے نقل و حمل ابھی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی، لیکن آج کی میگ لیو ریل گاڑیاں بھی خاصی تیز، معاشی اور محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :حکومت سے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے مذاکرات بے نتیجہ ختم