صرف ایک ضمانت نہیں، پنجاب کے تفتیشی نظام کا احتساب
تحریر: ملک اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم کی جانب سے جاری ہونے والا بارہ صفحات پر مشتمل فیصلہ بظاہر ایک ضمانت کی درخواست کا فیصلہ ہے، لیکن اگر اس کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ پنجاب کے تفتیشی نظام کی خامیوں، پولیس کی انتظامی غفلت اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے اسباب پر ایک جامع عدالتی دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔پاکستان میں عام طور پر عدالتی فیصلے صرف فریقین کے تنازع کو نمٹاتے ہیں، مگر بعض فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جو پورے نظام کے لیے اصلاح کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی انہی چند فیصلوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے محض ملزم تنویر احمد کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور نہیں کی بلکہ اس سوال کا بھی جواب دیا کہ جب ریاستی ادارے اپنی قانونی ذمہ داریاں ادا نہ کریں تو اس کی قیمت کون ادا کرے؟
عدالت نے دوٹوک انداز میں قرار دیا کہ پولیس کی سستی، غفلت اور ناقص تفتیش کا بوجھ کسی ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ یہ اصول صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں بلکہ آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔ اگر ریاست اپنے قوانین پر عمل درآمد میں ناکام رہے تو شہری کی آزادی کو بلاجواز محدود نہیں کیا جا سکتا۔
اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے صرف قانونی نکات بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تفتیشی نظام کی ان خامیوں کی نشاندہی بھی کی جو برسوں سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ چھ سال سے زائد عرصہ تک مقدمے کی فائل پر کوئی مؤثر کارروائی نہ ہونا، ملزم کو اشتہاری قرار دلوانے کے لیے قانونی تقاضے پورے نہ کرنا، روزانہ کیس ڈائریاں مرتب نہ کرنا اور کراس ورژن کی غیر جانبدارانہ تفتیش نہ کرنا ایسے نقائص ہیں جو کسی ایک ضلع یا ایک مقدمے تک محدود نہیں۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے اپنے فیصلے میں صرف تنقید نہیں کی بلکہ اصلاح کا راستہ بھی دکھایا۔ آئی جی پنجاب کو حکم دیا گیا کہ فیصلے کی نقول صوبے بھر کے آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ہیڈز آف انویسٹی گیشن تک پہنچائی جائیں، تمام اضلاع میں زیر التوا مقدمات کا آڈٹ کیا جائے، تفتیشی تاخیر ختم کی جائے اور تیس روز کے اندر عمل درآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ ایسے عملی احکامات اس فیصلے کو محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کا روڈ میپ بنا دیتے ہیں۔
اس فیصلے کی ایک اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں، آئینی اصولوں، ضابطہ فوجداری اور پولیس رولز کا تفصیلی حوالہ دیا گیا ہے۔ یہی اندازِ تحریر ایک مضبوط اور قابلِ استناد عدالتی فیصلے کی پہچان سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف موجودہ مقدمہ حل ہوتا ہے بلکہ مستقبل کے مقدمات کے لیے بھی قانونی رہنمائی فراہم ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر صرف ملزم ہی نہیں بلکہ مدعی کے حقوق کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایک مؤثر اور بروقت تفتیش ہی وہ بنیاد ہے جس پر منصفانہ ٹرائل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر تفتیش کمزور، جانبدار یا غیر ذمہ دارانہ ہو تو انصاف کا پورا عمل مشکوک ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں ایسے فیصلے ہمیشہ اہمیت رکھتے ہیں جو انفرادی مقدمے سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی اصلاحات کی راہ ہموار کریں۔ جسٹس محمد طارق ندیم کا یہ فیصلہ اسی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ اس میں آئین میں دیے گئے شہری آزادی کے تصور، منصفانہ ٹرائل کے حق اور ریاستی اداروں کی قانونی ذمہ داریوں کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اب اصل امتحان پنجاب پولیس اور اس کی قیادت کا ہے۔ اگر عدالت کی ہدایات پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جاتا ہے، زیر التوا مقدمات کا مؤثر آڈٹ ہوتا ہے، تفتیشی افسران کی تربیت بہتر بنائی جاتی ہے اور غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جاتا ہے تو یہ فیصلہ پنجاب کے تفتیشی نظام میں ایک مثبت تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ فیصلہ بھی صرف فائلوں کی زینت بن کر رہ گیا تو پھر عدالتی اصلاحات کا مقصد پورا نہیں ہو سکے گا۔
یہ فیصلہ ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا آغاز پولیس کی پہلی تفتیش سے ہوتا ہے۔ اگر تفتیش قانون کے مطابق، بروقت اور غیر جانبدار ہو تو نہ صرف بے گناہ افراد کے حقوق محفوظ رہتے ہیں بلکہ اصل مجرم بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ یہی ایک مضبوط، شفاف اور عوام دوست نظامِ انصاف کی بنیاد ہے۔