گھی اور آئل کی قیمت میں اضافہ!
پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی کے باوجود آئل و گھی کی قیمت میں کمی نہیں کی گئی,آئل و گھی ملز مالکان کی اجارہ داری، فیول کی قیمت کا جواز بنا کر قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا,صدرکریانہ مرچنٹس ثقلین بٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)آئل و گھی ملز مالکان کی اجارہ داری، فیول کی قیمت کا جواز بنا کر قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا۔
فیول کی قیمت نیچے آنے پر تاحال درجہ اول ، درجہ دوم کے گھی اور آئل کی قیمت میں کمی نہ کی جاسکی،فیول پرائسز میں اضافے سے قبل درجہ اول کا گھی و آئل کی قیمت 560 روپے فی کلو تھی،درجہ اول کے آئل و گھی کی موجودہ قیمت 610 روپے مختص ہے۔
فیول پرائسز کا جواز بنا کر درجہ اول کے گھی کی قیمت میں 50 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا،درجہ اول آئل کی قیمت میں بھی 50 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
صدرکریانہ مرچنٹس ثقلین بٹ کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کا جوز بنا کر گھی و آئل کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا،درجہ دوم کے گھی و آئل کی موجودہ قیمت 550 روپے فی کلو ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی کے باوجود آئل و گھی کی قیمت میں کمی نہیں کی گئی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اپیل ہے کہ وہ ملز مالکان کی اجارہ داری کو ختم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بینکوں میں بھاری رقوم رکھنے والوں کیلئے بری خبر
دوسری جانب لاہور میں ایل پی جی کے نرخوں میں کمی کے باوجود شہریوں کو ریلیف نہ مل سکا، سوئی گیس کے کم پریشر اور قلت کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ گیس بلیک میں فروخت ہونے لگی۔
سرکاری نرخ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت 241 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم شہریوں کو یہی گیس 350 سے 380 روپے فی کلو تک خریدنا پڑ رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ سوئی گیس کے بھاری بل بھی ادا کرتے ہیں اور دوسری جانب مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، سفید پوش طبقہ مشکلات کا شکار ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کو سرکاری نرخ پر دستیاب بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیا جائے۔