خواتین کے اغوا کے مقدمے میں اصل حقائق کیا ہیں؟

تحریر: سجاد اظہر پیرزادہ

Jul 06, 2026 | 18:18:PM
خواتین کے اغوا کے مقدمے میں اصل حقائق کیا ہیں؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کبھی کبھی ایک مقدمہ صرف ایف آئی آر نہیں، بلکہ پورے ریاستی نظام کا امتحان بن جاتا ہے، یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا پھر طاقت، تعلقات اور اثر و رسوخ انصاف کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں، لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور بدسلوکی کے کیس نے بھی یہی سوال ہم سب کے سامنے رکھا ہے۔

یہ معاملہ صرف اس لیے حساس نہیں کہ متاثرہ خواتین غیر ملکی ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ تحقیقات کے دوران ایسے نام اور تعلقات زیرِ بحث آئے جنہیں عمومی طور پر "بااثر" سمجھا جاتا ہے، ایسے مقدمات میں اکثر پولیس پر دباؤ، قیاس آرائیاں اور مختلف رنگ چڑھنے لگتے ہیں، مگر اس بار کم از کم پولیس کی جانب سے سامنے آنے والا مؤقف مختلف تھا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں جس اعتماد سے تحقیقات کی تفصیلات بیان کیں، وہ قابلِ توجہ تھیں، انہیں سننا چاہیے تھا، انہیں نظرانداز کرنا، بھرے مجمعے میں ان کیخلاف نعرے بازی نہ تو دانشمندی تھی اور نہ ہی پروفیشنل صحافیوں کا کوئی باوقار و غیرجانبدارانہ انداز- پولیس افسر کے مطابق ملزمان کو گرفتار کیا گیا، اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کی نشاندہی ہوئی، مختلف جگہوں پر کارروائیاں کی گئیں اور متاثرہ خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔

پریس کانفرنس کا شاید سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب فیصل کامران نے بتایا کہ ایک مکان کے بارے میں یہ اطلاع ملی کہ اس کا تعلق ممکنہ طور پر کسی بااثر شخصیت کے خاندان سے جوڑا جا رہا ہے، ان کے مطابق پولیس نے اس پہلو کی بھی تصدیق کی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو صورتحال سے آگاہ کیا، ان کے بقول وزیراعلیٰ کی ہدایت واضح تھی کہ مقدمہ صرف میرٹ پر چلایا جائے، خواہ کوئی بھی ملوث ہو، مریم نواز کا یہ انداز حکمرانی اور ایک پولیس افسر کی قانون کی بالادستی کیلئے ایسی سرتوڑکوششیں قابل تحسین نہ سہی مگر قابل تقلید ضرور ہیں۔

پاکستانی سیاست میں یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ "قانون اپنا راستہ خود بنائے گا"، لیکن عوام اس وقت یقین کرتے ہیں جب وہ اس جملے کو عملی شکل میں دیکھتے ہیں۔

اس کیس میں ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا، سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیلایا جا رہا تھا کہ خواتین خود اغواکاروں سے بچ نکلیں، جبکہ پولیس نے اس کی تردید کی، فیصل کامران کے مطابق متاثرہ خواتین نے بیان دیا کہ انہیں پنجاب پولیس نے ریسکیو کیا، پولیس کے مطابق بھٹہ چوک کے قریب گاڑی میں ہاتھا پائی کے بعد حادثہ پیش آیا، خواتین گاڑی سے نکل کر ایک قریبی سٹور میں پہنچیں، جہاں پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لیا، پھر دو خواتین پولیس افسران نے انہیں طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا، جو ایسے مقدمات میں انتہائی اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے، یعنی پولیس کی طرف سے خود مدعی کو طبی معائنے کے لیے آمادہ کرنے کے واقعات وطن عزیز میں آپ نے کتنی بار دیکھے ہیں؟

پولیس کی بری کارکردگی پر تنقید کرنا اہل صحافت کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی، لیکن جہاں کوئی ادارہ بڑے نام کے باوجود قانون کے مطابق کارروائی کرے، وہاں اس کی اچھائی کا اعتراف بھی ہم صحافیوں کی ذمہ داری ہے، اگر واقعی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھی ہیں، اگر گرفتاریاں بغیر امتیاز کے ہوئی ہیں اور اگر کسی ممکنہ بااثر تعلق نے تفتیش کا رخ تبدیل نہیں کیا، تو یہ پاکستان کی پولیس کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔

تاہم، ایک اور اصول بھی اتنا ہی اہم ہے، پولیس گرفتاری کرتی ہے، عدالت فیصلہ سناتی ہے، کسی بھی ملزم کا جرم عدالت میں ثابت ہونا باقی ہوتا ہے، اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شخص کو منصفانہ قانونی کارروائی کا حق حاصل رہے، اسی لیے اس مقدمے کی اصل کامیابی صرف گرفتاریوں سے نہیں، بلکہ ایک شفاف تفتیش، مضبوط استغاثہ اور عدالتی فیصلے سے وابستہ ہوگی۔

اس مقدمے نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کی ہے، جب متاثرہ افراد غیرملکی ہوں تو معاملہ صرف ایک کرائم رپورٹ نہیں رہتا، بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ بھی اس سے جڑ جاتی ہے، دنیا یہ دیکھتی ہے کہ پاکستان ایسے مقدمات میں کتنی تیزی، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز سے کارروائی کرتا ہے، اس عالم میں کسی پریس کانفرنس کے دوران عالمی سطح پر ذاتی نوعیت کی چپقلش کا اجاگر ہونا بھی ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی پریس کانفرنس سے کم از کم یہ تاثر ضرور ملا کہ پولیس اپنی کارروائی کو عوام کے سامنے جوابدہی کے ساتھ پیش کرنا چاہتی ہے، یہ لاہور کی تاریخ کے ایک دیانتدار اور محنتی پولیس افسر کا اتنا شاندار اور لائق تحسین رویہ ہے کہ اگر یہ رویہ برقرار رہتا ہے، اگر طاقتور اور کمزور کے درمیان قانون کا معیار ایک ہی رہتا ہے، اور اگر عدالتیں بھی اسی رفتار اور شفافیت سے مقدمات نمٹاتی ہیں، تو ایسے مقدمات پاکستان کے نظامِ انصاف پر اعتماد بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار نہیں، اس کا انصاف ہوتا ہے، وزیراعلٰی مریم نواز نے پولیس کو قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکمرانی کی ایک انمول مثال قائم کردی ہے، اب قوم  یہ دیکھے گی کہ انصاف کیسے ہوتا ہے، کیونکہ انصاف کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے کہ اس نگری میں کسی کا نام نہیں، بلکہ جرم دیکھا جاتا ہے۔
 سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، محقق اور لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  عمران خان سے ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال