امریکی پابندیوں میں نرمی ، ایران نے جاپان کو تیل فروخت کرنے کی کوششیں تیز کر دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) ایران نے امریکی پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی کے تحت جاپانی کمپنیوں کے ساتھ خام تیل کی ممکنہ فروخت پر مذاکرات شروع کر دیئے ہیں، تاہم خریداروں نے اس عمل کے لیے امریکی پابندیوں میں طویل مدت کی توسیع اور شپنگ سیکیورٹی کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری 60 روزہ امن مذاکرات کے تحت 22 جون کو دی گئی عارضی رعایت 21 اگست کو ختم ہو جائے گی، جس کے بعد اس معاہدے کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
ذرائع کے مطابق جاپان کی تین بڑی کمپنیاں 2019 کے بعد پہلی بار ایران سے خام تیل خریدنے پر غور کر رہی ہیں، جبکہ ایرانی اور جاپانی حکام کے درمیان ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں امریکہ کی جانب سے ایران پر سخت پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور یورپی ممالک نے ایرانی تیل کی خریداری بند کر دی تھی، جبکہ گزشتہ برسوں میں چین ایران کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑا یوٹرن! امریکی اعلان کے بعد خریدار دنگ رہ گئے!
ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ معاہدے کے لیے امریکی پابندیوں میں توسیع ضروری ہوگی کیونکہ جاپان تک تیل کی ترسیل میں طویل وقت لگتا ہے، اور شپنگ آپریشنز کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران تیل کی برآمد کے لیے اپنا خام تیل خلیج فارس میں واقع خارج آئل آئی لینڈ سے روانہ کرے گا، جبکہ شپنگ کے لیے جاپانی آپریٹڈ ٹینکرز استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سمندری راستے، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں کشتیوں پر حملوں اور بارودی سرنگوں کی موجودگی جیسے خطرات نے شپنگ انڈسٹری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں امریکی عارضی رعایت زیادہ تر ایشیائی ریفائنرز کو متاثر نہیں کرے گی، جس کے باعث ایرانی تیل کی بڑی خریداری کا انحصار چین جیسے روایتی خریداروں پر برقرار رہ سکتا ہے۔