کاہنہ سانحہ:اہل علاقہ کا پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ میں تمام نجی و سرکاری سکولوں کا فوری آڈٹ کروانے کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )کاہنہ سانحہ کے لواحقین نے پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ امدادی رقم کسی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ہے، آئندہ اس قسم کے واقعات روکنے کے لیے تمام نجی و سرکاری سکولوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے۔
پروگرام "بنام سرکار" کا آغاز اینکر زوہیب سلیم بٹ نے ایک ایسے المناک سانحے سے کیا جس نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کو غم اور افسوس میں مبتلا کر دیا تھا۔اینکر زوہیب سلیم بٹ نے پروگرام کے آغاز میں کہا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر عمارت کی بروقت جانچ پڑتال کی جاتی، حفاظتی اقدامات مکمل کیے جاتے اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے تو شاید آج 14 معصوم بچے اپنے گھروں میں زندہ موجود ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور سرکاری نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پروگرام "بنام سرکار" کی ٹیم موقع پر پہنچی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ ٹیم نے جاں بحق بچوں کے والدین، بہن بھائیوں اور بزرگوں سے اظہارِ تعزیت کیا اور شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر کئی والدین اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ ایک والد نے روتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچے کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج کر آئے تھے، لیکن چند گھنٹوں بعد اس کی میت گھر واپس آئی۔ ایک والدہ نے کہا کہ ان کے گھر کی خوشیاں ایک لمحے میں اجڑ گئیں اور اب ان کی زندگی پہلے جیسی کبھی نہیں ہو سکے گی۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مالی امداد کے اعلانات اپنی جگہ، مگر ان کے لیے سب سے اہم مطالبہ انصاف ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مالی امداد ان کے بچوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ اگر ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو مستقبل میں بھی ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے، حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت کے مرتکب تمام افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔حادثے کے بعد اعلیٰ سرکاری افسران اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ حکام کا کہنا تھا کہ زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو حکومتی پالیسی کے مطابق مالی امداد بھی دی جائے گی۔ ساتھ ہی واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
حادثے کے ابتدائی لمحات میں علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ نوجوان، بزرگ اور دکاندار ہاتھوں اور سادہ اوزاروں کی مدد سے ملبہ ہٹاتے رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو زندہ نکالا جا سکے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اس وقت کسی نے اپنی جان کی پروا نہیں کی، ہر شخص صرف بچوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ ان کے مطابق اگر اہلِ علاقہ فوری کارروائی نہ کرتے تو جانی نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔
ریسکیو 1122 کی کارروائی کے حوالے سے بھی کئی سوالات سامنے آئے۔ بعض شہریوں نے الزام عائد کیا کہ امدادی ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں، جس کے باعث قیمتی وقت ضائع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی چند منٹ کسی بھی ریسکیو آپریشن میں انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی بھی ادارے کی غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اسی دوران ایک پڑوسی خاتون کی بہادری بھی سب کی توجہ کا مرکز بنی۔
عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ملبے میں پھنسے بچوں کو نکالنے میں بھرپور مدد کی۔ اہلِ علاقہ نے ان کے اس جذبۂ انسانیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں انہوں نے بے مثال جرات اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔یہ افسوسناک سانحہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے حلقہ این اے 123 میں پیش آیا، جس کے باعث شہریوں کی توقعات حکومت اور منتخب نمائندوں سے مزید بڑھ گئی ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ علاقے سمیت ملک بھر میں تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور دیگر عمارتوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کرایا جائے، خستہ حال عمارتوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
پروگرام کے اختتام پر اینکر زوہیب سلیم بٹ نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانیں کسی بھی قیمت پر واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ سانحہ صرف خبروں تک محدود نہ رہے بلکہ اس سے سبق سیکھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا تو کل کوئی اور خاندان اسی کرب سے گزر سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت، متعلقہ اداروں اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ازسرِ نو جانچ کرائی جائے۔ آخر میں انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے پروگرام کا اختتام کیا۔