وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کا بچوں میں اسٹنٹنگ کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عاجزجمالی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں صوبے میں بچوں کی نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کے خاتمے کے لیے جامع اور مربوط حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، قائم مقام چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بلال میمن، قائم مقام سیکرٹری صحت حافظ عباسی، سیکریٹری سوشل پروٹیکشن خادم حسین چنو، سی ای او پی پی ایچ آئی جاوید علی جاگیرانی، سی ای او سوشل پروٹیکشن ارشاد علی سوڈھر، چیف فارن ایڈ ساجدہ ایاز کاظی سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
ورلڈ بینک کے وفد میں لیڈ اکنامسٹ غزالہ منصوری، آپریشنز آفیسرز حنا سلیم لوٹیا اور مرتضیٰ نوناری، سینئر واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن اسپیشلسٹ محمد فرحان اللہ سمیع اور سینئر سوشل پروٹیکشن اسپیشلسٹ سہیل سعید عباسی شامل تھے۔
اجلاس میں بچوں میں اسٹنٹنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ گورننس فریم ورک کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت صحت، غذائیت، صاف پانی، نکاسی آب، سماجی تحفظ اور زراعت کے شعبوں کو ایک مشترکہ نظام کے تحت یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بچوں میں نشوونما کی کمی انسانی ترقی کے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے،غذائی قلت، غربت، ناقص صفائی، غیر محفوظ پانی اور ناکافی طبی سہولیات اسٹنٹنگ کی بنیادی وجوہات ہیں، جن کے حل کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:روئی کے نرخ میں اچانک بڑا اضافہ، نئی قیمتوں نے چونکا دیا
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور ورلڈ بینک صحت، سماجی تحفظ، واش (WASH) اور زرعی شعبوں کے پروگراموں کو ہم آہنگ کریں گے، جبکہ بچوں کی غذائیت اور نشوونما میں قابلِ پیمائش بہتری کے لیے مشترکہ اہداف اور مربوط مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مربوط حکمتِ عملی کے تحت واش پروگرام کے ذریعے محفوظ پینے کے پانی، صفائی اور سیوریج نظام کی بہتری پر توجہ دی جائے گی، بیبی واش طریقہ کار کے فروغ سے ماحولیاتی عوامل کے باعث پیدا ہونے والی اسٹنٹنگ میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں ماں اور بچے کی غذائیت، حفاظتی ٹیکوں اور خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات مزید مضبوط کیے جائیں گے، جبکہ مامتا اور نشوونما پروگراموں کے ذریعے مستحق خاندانوں کو مشروط نقد امداد فراہم کی جائے گی۔
زرعی شعبے میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی، فصلوں میں تنوع اور کچن گارڈنز کے فروغ پر زور دیا جائے گا، جبکہ صوبہ بھر میں غذائیت، صفائی اور بچوں کی بہتر نگہداشت سے متعلق رویوں میں تبدیلی کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری پروگرام سندھ میں اسٹنٹنگ کے خاتمے کے لیے بنیاد فراہم کر رہے ہیں، نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام سندھ کے تمام 29 اضلاع میں جاری ہے، جبکہ سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پروگرام 15 اضلاع میں فعال ہے۔
مزید پڑھیں:مریم نواز کا مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان
مزید بتایا گیا کہ سندھ سوشل پروٹیکشن ڈلیوری سسٹم کو مزید سات اضلاع تک توسیع دی جائے گی، جبکہ اسٹار واش پروگرام سندھ کے تمام 22 دیہی اضلاع میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں بدین، جیکب آباد، کشمور، میرپورخاص، شکارپور، سجاول، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ شامل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کے وفد نے منصوبے کے لیے مضبوط گورننس اور مانیٹرنگ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، وزیراعلیٰ سندھ منصوبے کی اعلیٰ سطحی پالیسی اینڈ مانیٹرنگ اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ چیف سیکریٹری یا چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی سربراہی میں اسٹنٹنگ کنورجنس سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں رابطہ کمیٹیاں منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کریں گی، جبکہ اسٹنٹنگ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا جائے گا جس میں تمام شعبوں کا ڈیٹا ایک ہی ڈیش بورڈ پر دستیاب ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہر وہ بچہ جو نشوونما کی کمی کا شکار ہے، انسانی صلاحیتوں کے ضیاع کی علامت ہے، تعلیم، معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کے لیے بچوں میں اسٹنٹنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:ایران پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا شدید ترین حملہ کر سکتے ہیں:امریکی وزیر دفاع کا بڑا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ بکھرے ہوئے اقدامات کے بجائے مربوط حکومتی حکمتِ عملی ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے، صحت، غذائیت، صفائی، غربت اور غذائی تحفظ کے مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا ہوگا۔
ورلڈ بینک کے وفد نے سندھ میں انسانی ترقی اور بچوں کی نشوونما بہتر بنانے کے لیے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مربوط حکمتِ عملی سے جوابدہی بہتر ہوگی اور وسائل زیادہ متاثرہ اضلاع پر مرکوز کیے جا سکیں گے۔
دونوں میں ترجیحی اضلاع میں اسٹنٹنگ کے خاتمے کی حکمتِ عملی پر جلد عملدرآمد کے لیے گورننس اور مانیٹرنگ نظام کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔