افغانستان میں دہشتگردتنظیمیں سرگرم،پاکستانی مؤقف کی ایک بارپھرعالمی سطح پرتائید

May 24, 2026 | 09:48:AM
افغانستان میں دہشتگردتنظیمیں سرگرم،پاکستانی مؤقف کی ایک بارپھرعالمی سطح پرتائید
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)دہشتگردی،منشیات اسمگلنگ اورجابرانہ پالیسیوں نےطالبان رجیم پرعالمی برادری کااعتماد مکمل ختم کردیا،  افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور افغان سرزمین کے دیگر ممالک کے خلاف استعمال سے متعلق پاکستان کا مؤقف ایک بار پھر عالمی سطح پر درست ثابت ہوگیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کو دہشتگرد گروہوں کے ہاتھوں دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

رچرڈ لنڈسے نے کہا کہ افغان سرزمین پردہشتگردتنظیمیں سرگرم ہیں جوخطےکی سلامتی کیلئےسنگین خطرہ ہیں۔

رچرڈ لنڈسےنےطالبان رجیم کیساتھ سفارتی تعلقات کوعالمی برادری کی جانب سےانہیں جائزحکومت تسلیم کرنےسےمشروط کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:لداخ میں ہیلی کاپٹر حادثہ، مسلسل حادثات بھارتی ایوی ایشن پر سنگین سوالات اٹھنے لگے

برطانوی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ طالبان رجیم کی بین الاقوامی سطح پرقبولیت کاانحصارانسانی حقوق، سکیورٹی اورخواتین کےحقوق سےمتعلق عملی اقدامات پرہے،طالبان رجیم کوانسانی حقوق کااحترام اورلڑکیوں کیلئےثانوی واعلیٰ تعلیم تک رسائی یقینی بناناہوگی ۔

 ماہرین کے مطابق رچرڈ لنڈسے کا بیان اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی برادری اب طالبان حکومت کے دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں،طالبان رجیم میں افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔