سانحہ چکوال، سی سی ڈی اور قانون کی حکمرانی
تحریر؛ سجاد اظہر پیرزادہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
ایک بادشاہ،دنیا آج جسے دعا دیتے ہوئے یاد رکھتی ہے، ایک دن اس کے سپاہی سے غلطی سے ایک بے گناہ شخص کی جان چلی گئی،دربار میں مشیروں نے مشورہ دیا کہ چونکہ قاتل شاہی سپاہی ہے،اس لیے معاملے کو دبا دیا جائے تاکہ ریاست کی ساکھ متاثر نہ ہو، بادشاہ پکارا "ریاست کی ساکھ سچ چھپانے سے نہیں، انصاف کرنے سے بنتی ہے، اگر قانون کمزور کے لیے اور طاقتور کے لیے الگ ہو جائے تو پھر ریاست صرف عمارتوں کا نام رہ جاتی ہے۔"
چکوال میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ ایک ایسا ہی دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جس نے ہر حساس دل کو غمزدہ کر دیا ہے، ایک نو سالہ معصوم بچی ایک ایسے واقعے کا شکار بنی جس کا تصور بھی انسان کو لرزا دیتا ہے، ایک خاندان کی خوشیاں اجڑ گئیں، ایک گھر کا چراغ بجھ گیا اور والدین کی زندگی ایک ایسے دکھ سے بھر گئی جس کا کوئی مداوا ممکن نہیں،اس واقعے کے بعد قوم کی نظریں اس بات پر مرکوز ہوگئیں کہ متعلقہ ادارہ کیا رویہ اختیار کرتا ہے، کیا غلطی کو چھپایا جائے گا؟ کیا ذمہ داری سے انکار کیا جائے گا؟ یا پھر قانون کو اپنی راہ لینے دی جائے گی؟اس پس منظر میں سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کا مظلوم خاندان کے گھر جانا، بچی کی قبر پر حاضری دینا، اہل خانہ سے اظہارِ افسوس کرنا، واقعے میں اپنے اہلکار کی غلطی کو تسلیم کرنا اور ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوانے کے عزم کا اظہار کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، یہ قابل تحسین طرزِ عمل اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کسی بھی ادارے کی عزت اس کی غلطیوں سے نہیں بلکہ غلطیوں پر اس کے ردعمل سے متعین ہوتی ہے،اور اگر اداروں کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ جیسے نیک نام،قابل افسر ہوں تو قانون وردی، عہدے، امیرغریب،کمزور طاقتور دیکھ کر نہیں حقائق اور انصاف کےمطابق حکمرانی کرتا ہے۔
اگر ایک عام شہری جرم کرے تو وہ قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، اور اگر کوئی سرکاری اہلکار اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے سنگین غلطی کا مرتکب ہو جائے تو اس کے لیے بھی وہی قانون ہونا چاہیے، یہی اصول ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بناتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بے لگام طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں،جب قانون سب پر یکساں نافذ ہو، جب ریاستی ادارے اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور جب مظلوم کو یہ یقین ہو کہ اس کی فریاد سنی جائے گی، تب ہی قانون کی حکمرانی کا خواب حقیقت بنتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جرائم کے خلاف جنگ میں سی سی ڈی نے گزشتہ برسوں کے دوران اہم کردار ادا کیا ہے،خطرناک جرائم پیشہ عناصر، منظم گینگز اور سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف کارروائیوں میں اس ادارے کی قربانیاں اور خدمات اپنی جگہ مسلمہ ہیں، متعدد اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ عام شہری محفوظ زندگی گزار سکیں، یہی وجہ ہے کہ ایک انفرادی غلطی کو پورے ادارے کی کارکردگی پر حاوی نہیں ہونا چاہیے، البتہ ایسی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے.
اس سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں،اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید مؤثر بنایا جائے، طاقت کے استعمال سے متعلق قواعد پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جدید نگرانی اور احتسابی نظام کو مضبوط کیا جائے، اور ہر کارروائی میں شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے، ساتھ ہی ایسے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کو ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
معاشروں کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ ان میں غلطیاں نہیں ہوتیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ غلطی کے بعد انصاف کس رفتار اور دیانت داری سے فراہم کیا جاتا ہے،چکوال کی معصوم بچی واپس نہیں آ سکتی، لیکن اگر اس واقعے سے انصاف، احتساب اور اصلاح کا ایک مضبوط نظام جنم لیتا ہے تو یہ اس معصوم روح کیلئے خراجِ عقیدت ہوگا۔
آج ضرورت ہے کہ ریاستی ادارے اور قوم ایک دوسرے کے مدِمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شراکت دار بنیں، جرائم کے خاتمے کے لیے سی سی ڈی کی کاوشیں جاری رہیں، مگر اس کے ساتھ انسانی جان کے تقدس، پیشہ ورانہ احتیاط اور قانون کی بالادستی کے اصول بھی ہر حال میں مقدم رہیں، کیونکہ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد بے لگام طاقت نہیں، بلکہ انصاف ہوتا ہے، اور انصاف تبھی ہوتا ہے جب قانون سب کے لیے برابر ہو۔
سجاد پیرزادہ سینئر صحافی،محقق اور لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبرہیں۔