سیاسی موسم تبدیل۔معاملات عمران خان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ڈی این اے 

Nov 12, 2021 | 23:48:PM
سیاسی۔ موسم۔ تبدیل۔معاملات۔ عمران۔ڈی این اے 
کیپشن: ڈی این اے کے شرکا(فائل فوٹو)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز) سیاسی موسم تیزی سے بدل رہا ہے اور معاملات تیزی سے عمران خان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں، اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متحرک ہونا اور حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بار بار ملتوی کرنا حکومت کی بوکھلاہٹ کی واضح دلیل ہے۔ ان خیلالات کا اظہار 24 نیوز کے معروف پروگرام ڈی این اے میں تجزیہ کار حضرات سلیم بخاری ،افتخار احمد ،پی جے میر اور جاوید اقبال نے کیا ۔
سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پی ڈی ایم کے اتحاد کی جانب اہم پیش رفت ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پہلے پارلیمنٹ میں حکومت کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کیا اگر حکومت کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے بل پر شکست ہو جاتی تو حکومت شدید مشکلات سے دوچار ہو جاتی جس کے تدارک کے لئے اجلاس ملتوی کرنے کی نوبت آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد بالکل درست کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دونوں بلوں کو منظور کرانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ آمرانہ اقدام ہو گا ۔
 افتخار احمد نے کہا وزیر اعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ 16 نومبر کو جہاد سمجھ کر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں اگر وزیر اعظم کو پارلیمنٹ پرانحصار کرتے تو ایوان صدر کی آرڈیننس فیکٹری کو پے در پے آرڈیننس لانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اس کے وزرا اب بھی اپوزیشن کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کی بجائے انحرافی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں جس کا اظہار انہوں نے کابینہ اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، قائم علی شاہ اور فواد حسن فواد کا نام دوبارہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرکے کر دیا ہے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کسی وزیر مشیر یا حکومتی رکن پارلیمنٹ کو یہ کہتے نہیں سنا کہ انہیں اپوزیشن کی احتجاجی تحریکوں سے کوئی پریشانی ہے تاہم یہ پریشانی ان کے ردعمل میں نظر آتی ہے ، چالیس ارکان کا پارلیمنٹ سے غائب ہونا نظر انداز کرنے کی بات نہیں ہے ، حکومت کے اتحادی ان سے نالاں ہیں۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق بھی انتخابی اصلاحات بل اور نیب آرڈیننس پر حکومت سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں ۔پینل نے ڈالر کی قدر میں اضافے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ افتخار احمد نے کہا وزیر اعظم ہر اجلاس میں وزرا پر زور دیتے ہیں کہ وہ حکومت کے اچھے کاموں کی خوب تشہیر کریں اور عوام کو بتائیں کہ مہنگائی تو پوری دنیا میں ہے ۔
پی جے میر نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت معیشت کو سمجھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کورونا کے بعدامریکا سمیت پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس پر بند باندھنا ترقی یافتہ ممالک کے لئے بھی مشکل ہو رہا ہے ۔سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ وزیر توانائی نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے عوام کو خوشخبری سنا دی ہے کہ سردیوں میں گیس کا شدید بحران آئے گا اور دن میں صرف تین وقت ہی گیس ملے گی ۔بجلی اور پٹرول کی ستائی عوام کو گیس بحران کی صورت میں نئی تکلیف سے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔افتخار احمد نے کہا کہ حماد اظہر نے تو عوام کو گیس کی فراہمی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ حماد اظہر کے مطابق گیس جیسی نعمت پر عام آدمی کا حق ہی نہیں ہونا چاہئے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا ملک 41 ہزار ارب ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے یہ اعداد و شمار ہماری سالمیت کے لئے خطرے کا الارم ہیں ، پینل نے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق ٹرائیکا پلس کے اجلاس میں بھارت کی عدم شمولیت پر اظہار اطمینان کیا ، سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ امریکا چین روس اور پاکستان کے نمائندوں کا افغانستان کی صورتحال پر غور کرنا بہتری کی جانب اشارہ ہے تاہم جب تک داعش اور تحریک طالبان کو کنٹرول نہیں کیا جاتا افغانستان اور پاکستان میں امن و امان مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں۔’’مسٹر 56انچ‘‘خوفزدہ ہے۔۔ راہول گاندھی کا مودی پر طنز