والٹن ٹوبیکو کمپنی کو فوری طوری پر کھولا جائے، ملازمین کا آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ

ہم سب سے زیادہ ریاست کشمیر کو ٹیکس دے رہے ہیں جو  ماہانہ 24 کروڑ اور سالانہ اربوں روپے میں ہے ،ترجمان عارف ضیا ،محمد علی ، عمر احمد

Apr 06, 2024 | 10:17:AM
والٹن ٹوبیکو کمپنی کو فوری طوری پر کھولا جائے، ملازمین کا آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)والٹن ٹوبیکو سگریٹ کمپنی کے کارکنوں نے حکومت کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ عید سے پہلے کمپنی کو غیر قانونی طور پر سیل کیا گیا ہے جس سے 400 سے زائد ملازمین بے روزگار ھوگئے ہیں لہذا کمپنی کو فی الفور کھولا جائے۔

والٹن ٹوبیکو کمپنی کے ترجمان عارف ضیا ،محمد علی اور عمر احمد کشمیر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب سے زیادہ ریاست کشمیر کو ٹیکس دے رہے ہیں جو  ماہانہ 24 کروڑ اور سالانہ اربوں میں ہے اور ہماری فیکٹریوں پر غیر قانونی طور پر چھاپے مارے گئے اور سیل کئے گئے اور انتظامیہ کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں جبکہ ہم گزشتہ اکتیس سال سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں اور باقاعدہ ٹیکس گزار ہیں۔  

انہوں نے نے کہا ہے کہ حکومت پہلے بازاروں سے  غیرقانونی طور فروخت ھونے والے سیگریٹ تو پکڑے۔ھم ٹیکسز ادا کرکے کاروبار کر رہییہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کوئی قانون نہ ضابطہ ، چھاپہ مار کر فوری سب کاروبار بند کر دیا گیا ہے ہمارے پاس تمام ریکارڈ ہوتا ہے خام مال پر کسی قسم کا ٹیکس لاگو نہیں ہوتا جبکہ اس سلسلے میں محکمہ اِنکم ٹیکس کی فائنڈنگ بھی موجود ہے پورے ملک میں سمگلگ سیگریٹ سرعام بک رہے ہیں جن پر ہاتھ نہیں رکھ سکتی مگر جو ہم ٹیکس گذار ہیں ان کے ساتھ آوچھے ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  سالانہ اربوں روپے ٹیکس دینے والی کمپنی کو  کوئی شوکاز جاری نہیں ہوا نہ ہی محکمہ اِنکم ٹیکس آڈٹ بھی کر سکتا ہے مگر وہ بھی نہیں کیا گیا خام مال سے سیگریٹ بنیں گے تو ہی ٹیکس دینگے نہ سئنیر وزیر حکومت کی لاعلمی پر افسوس ہے ،سیدھا سیدھا بھتہ کیس ہے جس میں ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم بھتہ دینگے تو کاروبار کر سکیں گے وگرنہ کاروباروں پر تالے لگیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا ہے تمام دفاتر سیل کر دئیے ہیں اگر ایسے ہی روش برقرار رکھی گئی تو ہم اپنے کاروبار یہاں سے سمیٹنے پر مجبور ہونگے بھتہ خوری کبھی نہیں دینگے ہم ریاست کو ٹیکس کی مد پر دینگے کسی کی جیب نہیں بھریں گے انتظامیہ نے ہمیں سنگیں نتائج کی دھمکیاں دی ہیں یہ بھتہ کولیکشن آپریشن تھا جس میں کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہے کہ کہاں ٹیکس چوری ہو رہا ہے اورکون مال چوری بیچ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو ٹرک ضبط کئے گئے وہ پولیس نے راستے سے پکڑے ہیں ایکسائز چیک پوسٹ پر سے اگر بغیر انوائس کے گزرتے تو ہم قصور وار تھے اور خام مال ٹیکس لگ ہی نہیں سکتا کہا جاتا ہے کہ دو سو ٹرک جاتے ہیں مگر وہ اس کا ثبوت نہیں دے سکتے کہ کہاں اور کب جاتے ہیں۔

دیگر کیٹیگریز: کورونا
ٹیگز: