آئی ایم ایف معاہدہ ، کس کی شکست ؟ 

Jul 06, 2023 | 23:50:PM
آئی ایم ایف معاہدہ ، کس کی شکست ؟ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

تحریر( نوید چودھری )زبردست تگ و دو اور اعصاب شکن مراحل سے گزرنے کے بعد بالأخر آئی ایم ایف سے سٹاف لیول ایگریمنٹ طے پاگیا ہے - اس حوالے سے دو نکات بہت اہم ہیں ، پہلا یہ کہ اتحادی جماعتوں کی حکومت نے مضبوط ٹیم ورک کا موثر  مظاہرہ کیا جبکہ  اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا ، دوست ممالک بڑھ چڑھ کر مدد کو آئے ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑی سفارتی کامیابی بھی ہے ۔تحریک عدم اعتماد کے ذریعے  رخصت ہونے والی پی ٹی آئی حکومت کے سرکردہ رہنماوں ، ملکی اداروں میں موجود اس کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستوں نے پورا زور لگایا کہ پاکستان ڈیفالٹ  کر جائے تاکہ افراتفری میں اضافہ کرکے مذموم مقاصد حاصل کیے جاسکیں ۔ جو حلقے  یہ تاثر دے رہے تھے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل حکومت کی ہٹ دھرمی کے سبب نہیں ہو پارہی وہ قوم کو کھلا دھوکہ دے تھے - دراصل یہ سارا گھڑمس  جیو پولیٹکل گیم کو مد نظر رکھ کر  مچایا گیا تھا - اب جبکہ یہ معاہدہ ہوگیا ہے کہ تو عالمی میڈیا نے بھی آشکار کردیا ہے کہ امریکہ  نے پورے عمل کے دوران پاکستان کی حمایت کی ہے ۔

اس سے قبل  امریکی سفیر کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بار بار رابطے  کئے گئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار خود بھی جاتے رہے مگر ٹال مٹول سے کام لیا گیا  -وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ اس حوالے سے دوبار ٹیلیفون پر بات چیت کی-  یہ معاملہ دونوں رہنماؤں کے دوران بالمشافہ ملاقات کے دوران بھی زیر بحث آیا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ بھی  امریکی محکمہ خزانہ اور داخلہ کے حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہا ، محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری برینٹ نائمن کے ساتھ رابطہ رکھا گیا  جو بین الاقوامی سطح کے مالیاتی معاملات کو دیکھتے ہیں۔پاکستانی سفارتخانے نے اہم امریکی قانون سازوں کی معاونت بھی حاصل کی، جس میں سینیٹر لنزے گراہم بھی شامل ہیں، جنہوں نے  آئی ایم ایف ڈیل سے قبل پاکستانی ٹیم سے ملاقات کی، ان  تمام سرگرمیوں کے بعد  حتمی پیش رفت جون کے آخر میں اس وقت ہوئی، جب وزیر اعظم شہباز شریف نے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور ان سے نومبر سے روکے گئے 1.1 ارب ڈالر کی اہم قسط جاری کرنے کا کہا۔لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ امریکہ اور آئی ایم ایف کے حکام پاکستانی حکومت کے اقدامات ، کاوشوں اور یقین دہانیوں سے مطمئن ہوگئے تو درست نہ ہوگا -

اصل بات تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل کی مخالف تمام بین الاقومی لابیوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ جن عناصر کی مدد سے پاکستان میں نظام کو گرانا اور ناکام بنانا چاہتے تھے وہ اس حد تک کمزور ہوگئے ہیں کہ اب جارحانہ سرگرمیاں جاری رکھنے  کی بجائے اپنی بقا کیلئے ہاتھ پاؤں مار نے پر مجبور ہوگئے ہیں  - ایک سال سے زیادہ  دیر تک جاری رہنے والی اس کشمکش کے  دوران امریکہ  بھی  اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ دوست ممالک بالخصوص چین ،سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر پاکستان کو کسی بھی قیمت پر ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے - ان سطور میں پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ خطے  میں جاری تازہ پیش رفت ، چین کی کاوش سے سعودی عرب اور ایران  میں  صلح صفائی ، افغانستان  کی طالبان حکومت کو معیشت ، سفارتکاری سمیت دیگر معاملات میں آن بورڈ لینے ، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کیلئے خطے میں  ہم آہنگی پیدا کرنے کی عملی کوششوں کے بعد امریکہ کیلئے پہلی والی پوزیشن برقرار نہیں رہی  - امریکہ بھارت کو جتنا مرضی خوش کرلے اسکی ریاستی پالیسی کی  بنیاد تبدیل نہیں کراسکتا - یعنی بھارت امریکہ کے ساتھ  اپنے تعلقات کبھی روس سے دوستی کی قیمت پر قائم نہیں کرئے گا نہ ہی خطے میں اپنے  معاشی اور سفارتی مفادات کو کسی اور کیلئے داؤ پر لگائے گا -

ظاہر ہے جب ایسا منظر نامہ بن جائے تو پھر امریکہ سمیت کوئی بھی طاقت ہو اس کے پاس آپشن ہی کیا رہ جاتا ہے - واشنگٹن نے طاقت کے زعم میں رہنے کی بجائے بھی دانش مندی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے  کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں نئی حقیقتوں کو تسلیم کرلیا ہے - اب ففتھ جنریشن وار میڈیا سکواڈ  یہ  پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ  آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط بہت سخت ہیں جبکہ  حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ تمام شرائط پی ٹی آئی حکومت نے ہی طے کی تھیں - اس وقت کے سیکرٹری خزانہ یونس ڈھاگہ نے اعتراض کیا کہ یہ قابل عمل نہیں تو ان کی بات سننے کی بجائے  عہدے سے ہٹا دیا گیا - آئی ایم ایف کے مسلط کردہ گورنر سٹیٹ بنک کو وائسرے کا درجہ دے دیا گیا -

اس دوران شبر زیدی سے لے کر شوکت ترین تک میڈیا کے روبرو اعتراف کرچکے تھے کہ پاکستان عملی طور پر ڈیفالٹ کرچکا صرف اعلان ہونا باقی ہے - یہ تسلیم کرلیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی  حکومت کے پاس کوئی معاشی پلان ہی موجود نہیں ۔ سب سے بڑا جرم یہ کہ حکومت جاتی دیکھ کر عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑ کر پاکستان کے لیے بارودی سرنگیں بچھا دیں - جو عالمی سطح پر ملک کی ساکھ سخت دھچکا لگانے کا سبب بنا - دنیا اور عالمی مالیاتی ادارے ایسی وعدے خلافیوں کو جرم گردانتے ہیں  -یہ بھی ثابت ہوچکا کہ شہباز حکومت کے دوران  آئی ایم ایف سے معاہدہ رکوانے کیلئے عمران خان نے شوکت ترین اور اس وقت کے ، کے پی کے اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ مل کر  گھناؤنا وار کیا - کسی اور ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو تمام کردار چند ہفتوں کے اندر عبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہوتے مگر یہاں 140 نمبر عدلیہ کے سبب راوی  اب تک چین ہی چین لکھ رہا ہے - آئی ایم ایف سے معاہدہ تڑوا نے کی شیطانی سازش  کسی بھی طرح سانحہ 9 مئی سے کم نہیں - جس طرح 9 مئی کے مجرموں کا احتساب کیا جارہا ہے اسی طرح آئی ایم ایف سے ڈیل رکوا کر پاکستان کو ڈیفالٹ کرانے کی کوشش کرنے میں ملوث افراد کو بھی قانون کے شکنجے میں  لانا ضروری ہے -

بہر حال فی الحال اتنا تو ہوا کہ آئی ایم ایف سے اس ڈیل کے بعد ملک کی معاشی سمت کا تعین کرنا آسان ہوگیا ہے۔ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے اب دو ہی ذرائع باقی رہ گئے - اعلیٰ عدلیہ میں موجود جانبدار جج اور افواہیں پھیلانے والے سوشل میڈیا کے مچھندر ، عدلیہ کے حوالے سے “ ڈنگ ٹپاو” پالیسی اختیار کرکے کسی حد تک مطلوبہ نتائج حاصل کیے گئے ہیں - جبکہ  اطلاعات ہیں کہ تمام سوشل میڈیا  کمپنیوں کو پاکستان میں  دفاتر کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے -  انہیں پابند کیا  جائے گا کہ فیک نیوز کی حوصلہ شکنی کریں،  مواد شائع کرنے اور متعلقہ فورمز کی جانب سے نشاندہی پر ہٹائے جانے  کے حوالے کے حوالے  میں ایک جامع حکمت عملی  پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں - یہ طے ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ  کے ثمرات کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں  غیر یقینی کی فضا کا  ہر قیمت پر خاتمہ  کرنا ہوگا   -یہ بات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہی جاسکتی ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پی ٹی آئی  اور مختلف اداروں میں موجود اس کے سہولت کاروں کے لیے ایک بڑی شکست ہے  ، آنے دنوں میں معیشیت کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی مستقبل کا نقشہ بھی واضح ہو جائے گا - پاکستان اس موڑ پر آچکا ہے کہ جہاں مخصوص مفادات اور مذموم مقاصد کے لیے کسی کو بھی افرتفری مچانے کا مزید موقع  نہیں دیا جاسکتا -

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: