پی ٹی آئی امیدواروں سے انتخابی نشان واپس لینےکیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ 

Feb 29, 2024 | 15:53:PM
پی ٹی آئی امیدواروں سے انتخابی نشان واپس لینےکیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے امیدواروں  سے  انتخابی نشان واپس لینےکے معاملے پر الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کو آئین سے متصادم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن ایکٹ کےسیکشن215کوآئین سےمتصادم قراردینےکیخلاف انٹراکورٹ اپیل پرلاہورہائیکورٹ نےفریقین کےوکلاکےدلائل کےبعدفیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سماعت کی، وفاق کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مرزا نصر احمد پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے  کہا کہ انتخابی نشان واپس لیناپینلٹی ہے،
سپریم کورٹ قراردےچکی کہ انٹراپارٹی الیکشن کراناضروری ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انتخابی نشان پارٹی کا بنیادی حق ہے،انتخابی نشان نہ ملنےسےپارٹی تحلیل ہو گئی ہے۔ 
جسٹس علی باقرنجفی نے سوال کیا کہ پارٹی کیسےتحلیل ہوگئی؟وکیل اظہرصدیق نے جواب دیا کہ ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دی جارہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فرداپنی طرف سےانتخابی نشان مانگ رہاہےپارٹی کوخودآناچاہیےتھا،درخواستگزاروکیل نےدلائل کےحق میں عدالت کےروبرومتعددفیصلوں کےحوالےدیئے، جس کے بعد عدالت نے اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔
یہ بھی پڑھیں : دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں قابل سماعت قرار