بیدار ہونیکا انداز پورا دن بدن پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا اہم انکشاف

Mar 22, 2022 | 16:18:PM
الارم، فائل فوٹو
کیپشن: الارم، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ماہرین کا کہنا ہے کہ بیدار ہونے کا انداز پورے دن ہمارے بدن پر اثرانداز ہوتا ہے اور دن بھرکے امور کو  مشکل بناسکتا ہے۔

صبح جلدی اُٹھنے کیلئے ہم مختلف قسم کے الارم کا انتخاب کرتے ہیں بیداری کے بعد ذہنی سکون کیلئے ہرفرد کی کوشش یہی ہوتی ہے الارم کی دھن مدھم اورسریلی ہو ۔کیا نیند سے بیداری کیلئے کوئی  ایسی دھن بھی  ہوسکتی ہے  جسے سن کر جسم کو کچھ انرجی بھی ملے؟یہ سوال 500 قبل مسیح میں یونانیوں نے بھی کیا تھا لیکن اب سائنسدانوں کا جواب یہ ہے بعض اقسام کی فری کوئینسی اور فی منٹ بیٹ والے الارم دماغ کے بیداری والے حصے کو زیادہ سرگرم کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم اچھےانداز میں بیدار ہوسکتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ بیدار ہونے کا انداز پورے دن ہمارے بدن پر اثرانداز ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ دن بھرکے امور مثلاً ڈرائیونگ وغیرہ کو بھی مشکل بناسکتا ہے، اس کیفیت کو سائنسدانوں نے ’نیند کا جمود‘ یعنی سلیپ انرشیا کا نام دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صبح کا الارم ایسا ہونا چاہیے جو ایک سوئچ کی طرح کام کرکے ہمیں مکمل طور پر بیدار کرسکتے۔

 ابتدائی تحقیق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ مائیکل جیکسن کا بچپن میں گایا ہوا ایک گیت ’اے بی سی ‘ اس کی بہترین مثال ہے جو انہیں نے گیارہ برس کی عمر میں گایا تھا۔

اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی فریکوئنسی 500 ہرٹز ہے اور اس میں بیٹس کی تعداد 100 تک ہے۔ یہ دونوں عناصر مل کر ایک ایسی دھن بناتے ہیں جو دماغ کی بیداری کے حصے کو سرگرم کرتے ہیں اور ہم توانائی بھرے انداز میں آنکھیں کھول سکتے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق 18 سے 25 سال تک کے افراد میں الارم بلند ہونا چاہیے تاہم الارم کا سائنسی فارمولہ یہ ہوگا۔ الارم کی فری کوئنسی 500 ہرٹز تک ہو اور اس میں دھمک یا بیٹس کا شمار 100 سے 120 ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت چھوٹے بچوں پر بھی یہی فری کوئنسی کے الارم بہتر طور پر کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:    صارفین کیلئے بڑی خبر، واٹس ایپ پرہرزبان دستیاب