مصدق ملک نے پی ٹی آئی کی مبینہ فارن فنڈنگ کوملکی ایٹمی اثاثوں کے خلاف سازش قراردے دیا

Oct 18, 2022 | 20:33:PM
مصدق ملک نے پی ٹی آئی کی مبینہ فارن فنڈنگ کوملکی ایٹمی اثاثوں کے خلاف سازش قراردے دیا
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے امریکی صدر کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف بیان کو ایٹمی اثاثوں کے مخالف ڈیوڈ فینٹن سے مستفید شدہ پی ٹی آئی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ فارن فنڈنگ ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔

مصدق ملک نے پی ٹی آئی کو حاصل شدہ مبینہ فارن فنڈنگ کو ملک کے خلاف استعمال ہونے کا الزام عائد کر تے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو عمران خان امریکہ پر پاکستانی سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف کمپین کرنے والے ڈیوڈ فینٹن کی پی ٹی آئی کے لئے کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو عمران کے سازشی بیانیئے کا پردہ چاک کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ ریاست کے خلاف استعمال ہو رہی ہے جس کے ذریعے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

 ان کا مزید کہنا تھا کہ NETFLIX سے منسوب حکومت مخالف ویڈیو سے NETFLIXنے خود لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ 30,30لاکھ میں بننے والی ان ویڈیوز کا پیسہ کہاں سے آرہا ہے بیرونی فنڈنگ چاہے وہ عارف نقوی یا کسی کرکٹ کلب یا ہندوستانیوں جن کا ذکر زبان زدعام ہے سے حاصل کی گئی ہے ملکی اداراے اور ملکی سلامتی کے داروں کے خلاف پروپیگنڈا میں استعمال ہو رہی ہے چاہے وہ ملکی حکمران ہوں یا ملکی سلامتی کے ادارے ہوں۔ شہداءکے خلاف ویڈیوز بنانے والے اب خود اقرار کر رہے ہیں کہ ان سے غلطی ہوئی ۔ مصدق ملک نے عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا اگر وہ سچے ہیں تو ڈیوڈ فینٹن کی فرم سے معاہدے کا انکار کریں۔ 

ان کامزید کہنا تھا سابقہ پرائم منسٹرجو کہ ملکی رازوں کا رازدار ہوتا ہے نے سائفر لہرا لہرا کر ڈرامہ رچایہ اور بعد میں کہا کہ سائفر تو گم ہو گیا ہے۔مصدق نے مزید کہاکہ امریکی سائفر کا ڈرامہ کر کے جھوٹا بیانیہ بنایا جس کا پردہ اس کی اپنی لیک شدہ آڈیو میں چاک ہوگیا اور مزید برآں اب وہ ملکی سلامتی کے اداروں پر کیچر اچھال رہا ہے اور اس کے حواری جن میں اعظم سواتی بھی شامل ہے گیٹ نمبر چار پر حملہ آور ہونے 

کے بیانات دے رہا ہے۔ عوام اس کا اصل چہرہ پہچان گئے ہیں اورریاست کے خلاف لانگ مارچ میں بھی شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔