تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے، الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

Dec 11, 2023 | 14:36:PM
 تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے، الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24news.tv
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری)سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے۔

تاحیات ناہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا،سپریم کورٹ کے مطابق کیس کی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی،موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا۔

ضرورپڑھیں:کسٹم حکام پہلے خود پیسے لے کر گاڑیاں اسمگل کراتے پھر پکڑوا دیتے ہیں:  چیف جسٹس

 سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ موجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیاجائے،سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا۔

’’الیکشن کمیشن سمیت کوئی انتخابات میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کرے گا‘‘

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟جسٹس اطہر من اللہ بولے کہاس کیس سے موجودہ انتخابات متاثر ہوں گے،وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے کو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں،نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ قتل کے جرم میں سیاست دان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی،جسٹس اطہر من اللہ  بولے کہ بچے کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین جرم کی سزا بھی پانچ سال نااہلی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔

 جسٹس اطہر من اللہ  نے ریمارکس دئیے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر ختم کر سکتی ہے، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا، چیف جسٹس پاکستان  نے ریمارکس دئیے ہیں کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم نہیں دے سکتی، ہم ہائیکورٹ پر مانیٹرنگ جج نہیں بیٹھے ہوئے،ہم ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل کے معاملے پر نہیں آئینی معاملے پر فیصلہ کریں گے، آرٹیکل 63 ون جی میں پاکستان کی تباہی کرنے والے کی نااہلی پانچ سال ہے،آرٹیکل 63 ون ایچ میں اخلاقی جرائم پر نااہلی تین سال ہے۔

لوگ شادی کے وقت جن شرائط پر رشتہ دیتے ہیں وہ پوری نہ ہوں تو شادی ختم تو نہیں ہوتی،یہ مثال صرف سمجھانے کی غرض سے دی ہے،امین تو صرف ہم ایک ہی شخصیت کو کہتے ہیں باقی کوئی اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتا،ہر شخص ہر وقت سچ تو نہیں بولتا،اصل نااہلی تو آرٹیکل 63 میں ہے،پاکستان کی تباہی کرنے والے کو دوبارہ سیاست میں آنا ہی نہیں چاہیئے مگر اسکی نااہلی بھی پانچ سال ہے،آئین کی زبان کو دیکھنا ہوتا ہے ہر چیز آئین میں واضح درج نہیں،جو آئین میں واضح نہیں اس کی سپریم کورٹ تشریح کر سکتی ہے وضاحت نہیں،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے نااہلی کی مدت کا معاملہ نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی دونوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پارلیمنٹ کی قانون سازی چلے گی یا سپریم کورٹ کا فیصلہ اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھنا ہے،ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے دوسری جانب قانون،ریٹرننگ افسر کس پر انحصار کرے گا؟انتخابات آگئے ہیں مگر کسی کو پتا نہیں کہ وہ الیکشن لڑے گا یا نہیں۔وفاقی حکومت کی تاحیات نااہلی سے متعلق رائے کیا ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وفاق کی یہ رائے ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالا ہے،  سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سامنے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق تین اپیلیں آئیں،سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ 2008 اور 2018 کے انتخابات سے متعلق تھا، 

درخواست گزار کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کے ساتھ 2 سال کی سزا بھی ہوئی،درخواست گزار کی نااہلی کی سزا کیخلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے،سپریم کورٹ صرف نااہلی کے سوال کو دیکھے گی، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق میر بادشاہ قیصرانی کی نااہلی تاحیات ہے،جبکہ نااہلی کی مدت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 میں 5 سال کی گئی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق سیکشن 232 سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے سے بالا ہوگا جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون میں تاحیات نااہلی کی تشریح کرچکی،وکلا کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو چیلنج نہیں کیا گیا،آئندہ انتخابات میں اس معاملے سے ریٹرننگ افسران کو کنفیوژن ہوگی، ریٹرننگ افسر الیکشن ایکٹ پر انحصار کرے یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ ابہام جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں ،یہ بھی خدشہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل اور عدالتیں غیر ضروری مقدمہ بازی میں پھنس جائیں گی۔

ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے اور لارجر بینچ کے سامنے مقرر ہونا چاہیے ، نااہلی سے متعلق معاملہ بنچ کی تشکیل کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے،اٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو معاونت کیلئے نوٹس کیا جاتا ہے،نااہلی سے متعلق معاملے پر معاونت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس کیا جاتا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں اس وقت بے یقینی کی صورتحال ہے،  جسٹس اطہر من اللہ بولے کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے یہ بے یقینی والی بات دوبارہ نہیں کرنی،انتخابات 8 فروری کو ہی ہونگے، غیر یقینی کی بات کرنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا،  سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ موجودہ کیس کو الیکشن کمیشن سمیت کوئی انتخابات میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کرے گا۔