شہریوں کی جائیدادیں سالہا سال تک بلاک نہیں رکھی جا سکتیں:لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کی جائیدادوں کو طویل عرصے تک بلاک رکھنے کے معاملے پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کی جائیدادوں کو طویل عرصے تک بلاک رکھنے کے معاملے پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس مسعود عابد نقوی نے ایل ڈی اے کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جس دوران پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کی جائیدادیں سالہا سال تک بلاک نہیں رکھی جا سکتیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ متعلقہ معاملہ 2014-15 سے زیر التوا ہے اور متاثرہ فریق کو مزید انتظار پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے ایل ڈی اے سے استفسار کیا کہ زمین کے حصول (ایکوزیشن) کی کارروائی کتنے عرصے میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ ایل ڈی اے کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر متاثرہ فریق متبادل پلاٹ لینے پر آمادہ ہو تو کارروائی ایک ماہ میں مکمل کی جا سکتی ہے، تاہم اگر اے ڈی سی آر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو ایکوزیشن کے عمل میں مزید چھ ماہ درکار ہوں گے۔
اس پر جسٹس مسعود عابد نقوی نے ریمارکس دیئے کہ متاثرہ فریق پلاٹ لینے کا خواہشمند نہیں بلکہ قانون کے مطابق مالی معاوضہ چاہتا ہے، لہٰذا مزید چھ ماہ کی مہلت نہیں دی جا سکتی۔
سماعت کے دوران اے ڈی سی آر کریم داد چغتائی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے اراضی کی قیمت کے تعین سے متعلق جواب طلب کیا، جس پر اے ڈی سی آر نے یقین دہانی کرائی کہ قیمت کا تعین ایک ماہ کے اندر کر دیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے مدت کم کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اراضی کی قیمت کا تعین 15 روز میں مکمل کیا جائے۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ ایل ڈی اے ڈھائی ماہ کے اندر ایکوزیشن کی کارروائی مکمل کرے جبکہ مجموعی طور پر تمام قانونی اور انتظامی کارروائی تین ماہ کے اندر مکمل ہونی چاہیے۔
دوران سماعت متاثرہ فریق کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ معاوضہ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادا کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر متاثرہ فریق معاوضے کی رقم سے مطمئن نہ ہو تو اسے قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق حاصل ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر قانونی نکات پر تفصیلی دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔