تل ابیب میں اپنے پالتو جانوروں کو کنٹرول کرو، عباس عراقچی کی امریکہ کو وارننگ

Jul 01, 2026 | 19:08:PM
  تل ابیب میں اپنے پالتو جانوروں کو کنٹرول کرو، عباس عراقچی کی امریکہ کو وارننگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

'(ویب ڈیسک)  تل ابیب میں اپنے پالتو جانوروں کو کنٹرول کرو': اسرائیل کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی کے بعد ایران نے امریکہ کو خبردار کر دیا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع  اسرائیل کاٹز  نے  ایرانی سپریم لیڈر  مجتبیٰ خامنہ ای کو 'مردہ آدمی' کہا تو اس کے بعد تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 'فوری اور شدید ردعمل' کا انتباہ دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ  عباس عراقچی نے بدھ کو خبردار کیا کہ  ایران اپنی قیادت کے خلاف کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دے گا،  اسرائیل کی میڈیا آؤت لیٹ وائی نیٹ نے رپورٹ کیا کہ عباس عراقچی کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نکی اس دھمکی کا جواب ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کو "مرنے کے لیے نشان زد کر دیا گیا ہے۔"

عباس عراقچی نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا، "اسلام آباد کے مفاہمت نامے کی شرائط بالکل واضح اور سب کے لیے  پبلک ہیں۔" عراقچی نے یہ بھی لکھا کہ " امریکہ کے صدر نے یہ وعدہ کیا ہے کہ امریکہ تل ابیب میں اپنے پالتو جانوروں کے منہ بند رکھے گا۔  عراقچی نے مزید لکھا کہ  اگر وہ اپنے آقا کو نظر انداز کرتے ہیں تو ایران ان کی تربیت کرے گا۔ ہمارے عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی خطرے کا فوری طور پر طاقتور جواب دیا جائے گا۔"
پیر کو  وی نیٹ سے باتیں کرتے ہوئے کاٹز نے کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے ذریعے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کاٹز نے کہا تھا کہ  "وہ اچھے ہارس ٹریڈر ہیں اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،" کاٹز نے کہا۔ "ہم ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر وہ کسی معاہدے کے ذریعے  ایران کے ایٹمی ہتھیار کو روکتے ہیں تو بہتر ہے۔"
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر ایران نے ایک اور حملہ کیا تو اسرائیل کیا کرے گا، کاٹز نے کہا کہ اسرائیل جواب دے گا چاہے امریکہ فوجی کارروائی میں شامل ہو یا نہ ہو۔

کاٹز نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری موجود ہے۔ "لیکن اگر ایران حملہ کرتا ہے تو اسرائیل طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔  یہ کسی بھی چیز سے مشروط نہیں ہے۔ ٹرمپ ریاست اسرائیل کے دوست ہیں۔ اپنے عالمی نظریہ میں، وہ جانتے ہیں کہ اچھے لوگ کون ہیں اور برے کون ہیں۔" 

کاٹز نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ایک اور فوجی تصادم ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کل ہماری ایران کے ساتھ جنگ ​​ہو جائے۔ "اگر ایران اسرائیل پر میزائل داغتا ہے تو اسرائیل ایران پر طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا۔ کوئی بھی  ایسی صورتحال ہم قبول نہیں کریں گے جس میں ایران اسرائیل پر گولی چلائے۔ یہ بات امریکیوں پر بھی واضح کر دی گئی ہے۔ IDF صرف اس کا انتظار کر رہی ہے اور چوکنا ہے۔ ایران میں اہداف  موجود ہیں۔"
اسرائیل اور ایران کے درمیان نئی دھمکیوں کا یہ تبادلہ اس وقت ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی بات چیت بدھ کے روز دوحہ، قطر میں دوبارہ شروع ہوئی۔ یہ بالواسطہ مذاکرات  قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔
مذاکرات کے بارے میں براہ راست علم رکھنے والے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ تکنیکی ٹیمیں اور مذاکراتی ماہرین بات چیت میں حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر نے منگل کو قطری وزیر اعظم محمد الثانی سے ملاقات کی تاکہ بات چیت کی بنیاد رکھی جا سکے لیکن ان سے بدھ کی تکنیکی ملاقاتوں میں براہ راست شرکت کی توقع نہیں تھی۔
ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ بات چیت تہران کے منجمد اثاثوں کو ایران کے ھوالے کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات پر مرکوز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عادی مجرم پروفیسر کے سینکڑوں چالان، دو لاکھ آٹھ ہزار روپے جرمانے، آخر موٹرسائیکل قابو آگئی
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی دوحہ میں قطر کے وزیر اعظم سے ملاقات کی جس میں عبوری معاہدے پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا  IRNA نے اطلاع دی ہے کہ دونوں فریقوں نے مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد میں تیزی لانے پر بھی بات چیت کی، خاص طور پر لبنان کے حوالے سے۔ اس کے بعد سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں ایک پاکستانی نمائندہ شامل تھا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ عبوری مفاہمت پر عمل درآمد کی نگرانی اور حتمی معاہدے پر مذاکرات کی تیاری کے لیے ورکنگ گروپس قائم کیے گئے تھے، لیکن انھوں نے کہا کہ جامع معاہدے پر ابھی تک رسمی بات چیت شروع نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:  ایران سے جنگ دو دن میں دوبارہ بھڑک سکتی ہے: اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ