دریائے چناب پر منصوبہ،بھارت باز آجائے ورنہ ہزیمت اٹھانا پڑے گی:شیری رحمان

Dec 29, 2025 | 14:19:PM
دریائے چناب پر منصوبہ،بھارت باز آجائے ورنہ ہزیمت اٹھانا پڑے گی:شیری رحمان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارت کا دریائے چناب پر نیا منصوبہ آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے، بھارت یکطرفہ اقدامات سے باز آ جائے ورنہ ہزیمت اٹھائے گا۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین اورعالمی اصولوں کے خلاف ہے۔

 چناب پر بھارتی منصوبے سے پاکستان کی آبی،زرعی اورماحولیاتی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے،بھارت باز نہ آیا تو اس کوہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو یکطرفہ اقدامات ترک کرکے بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں:کم آمدن افراد کیلئے پنجاب میں 37 ہزار سے زائد گھروں کا نیا منصوبہ شروع

 دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ دفاعی اورتزویراتی اعتبار سے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

 بھارت پانی کو بطور ہتھیاراستعمال کرکے جنوبی ایشیا میں کشیدگی،عدم استحکام کو ہوادے رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اچانک کمی بھارتی آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔

 سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی صوابدید نہیں عالمی ضمانتوں کے تحت طے شدہ دستاویز ہے۔

شیری رحمان نے خبردار کیا کہ پاکستان کے دریاؤں پر کسی قسم کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش سخت نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔

 پانی پاکستان کی ریڈلائن ہے جس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چناب،جہلم اور سندھ کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

راوی ، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کا اختیار ہے۔

 مگر معاہدہ یکطرفہ معطل کر کے بھارت نے کئی متنازعہ منصوبوں پر کام کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان متنازعہ منصوبوں میں سوال کوٹ، ریتل، برسار، پکال ڈل، کواڑ، کیرو، کیرتھی 1 اور دلہستی 2 شامل ہیں جبکہ بگلیہار پر پاکستان پہلے ہی عالمی عدالت میں جا چکا ہے۔