قانونی نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات — پاکستان کوڈ اور کیم سسٹم کی افادیت پر ایک نظر
ملک محمد اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان میں قانونی نظام ہمیشہ سے پیچیدگی، تاخیر اور غیر مؤثر انتظام جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے، مقدمات کی تاخیر، دستاویزات تک محدود رسائی، اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطے کی کمی وہ مسائل ہیں جنہوں نے نہ صرف عدالتی نظام بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔
ایسے میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دفتر کا حالیہ دورہ اور وہاں "پاکستان کوڈ" اور "کیم" سسٹم جیسی جدید سہولتوں کی فراہمی کا اعلان ایک خوش آئند پیش رفت ہے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کے ہمراہ ملاقات کے دوران وزیر قانون نے صوبائی لاء افسران کے لیے بلا معاوضہ “پاکستان کوڈ” اور “کیم” سسٹم تک رسائی دینے کا اعلان کیا، بظاہر یہ ایک انتظامی قدم لگتا ہے، لیکن اس کے اثرات دور رس ہیں۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کا عدالتی و انتظامی ڈھانچہ اب ڈیجیٹل بنیادوں پر منتقلی کی جانب سنجیدگی سے بڑھ رہا ہے ،“پاکستان کوڈ” ایک آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس پر پاکستان کے تمام وفاقی قوانین کو نہ صرف ترتیب دیا گیا ہے بلکہ اُنہیں عام فہم انداز میں تلاش اور استعمال کے قابل بھی بنایا گیا ہے،ماضی میں قانونی دفاتر یا لاء افسران کو کسی قانون کی متعلقہ شق یا ترمیم تلاش کرنے کے لیے موٹی کتابوں کے پلندے پلٹنے پڑتے تھے، اب صرف چند کلکس سے پورا قانونی متن دستیاب ہوگا۔
اس سہولت سےسرکاری وکلاء اور لاء افسران کو قانونی حوالوں کی فوری دستیابی ممکن ہوگی،مقدمات کی تیاری میں وقت کی بچت ہوگی۔قانونی دلائل میں یکسانیت اور درستگی بڑھے گی۔قانون کی غلط تعبیر یا ابہام کے امکانات کم ہوں گے۔دوسری طرف "کیم" سسٹم ایک جدید ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ پلیٹ فارم ہے جو عدالتوں اور سرکاری وکلاء کو مقدمات کی پیش رفت، تاریخوں، دلائل اور فیصلوں کا خودکار ریکارڈ رکھنے کی سہولت دیتا ہے،اس نظام کے نفاذ سےلاء افسران کی روزانہ کارکردگی کا مؤثر انداز میں جائزہ ممکن ہوگا۔
اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیش رفت سے بروقت آگاہی حاصل ہوگی۔کسی بھی مقدمے میں تاخیر یا غفلت کی نشاندہی فوری طور پر ہو سکے گی۔
،وفاقی اور صوبائی سطح پر مقدمات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے شفافیت بڑھے گی،وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ “کیم” سسٹم سے حکومت کے قانونی معاملات میں شفافیت اور کارکردگی دونوں میں اضافہ ہوگا،دراصل، یہی وہ عنصر ہے جو ماضی میں اکثر کمزور رہا۔ جب تک ہر افسر کے کام کا ریکارڈ شفاف طریقے سے سامنے نہیں آتا، کارکردگی کا حقیقی جائزہ لینا ممکن نہیں ہوتا، "کیم" کے ذریعے یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کی سربراہی میں صوبائی قانونی ادارہ پہلے ہی پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کی پیشکش اس کوشش کو مزید تقویت دے گی،جب قانونی مشینری کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے ساتھ مضبوط کیا جائے گا تو یقیناً مقدمات کے بروقت فیصلے ممکن ہوں گے جس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا،ڈیجیٹل اصلاحات اب محض سہولت نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہیں۔ “پاکستان کوڈ” اور “کیم” جیسے اقدامات پاکستان کے قانونی نظام کو کاغذی دفتریت سے نکال کر شفاف، تیز اور مؤثر سمت میں لے جا سکتے ہیں۔اگر ان نظاموں کا نفاذ سنجیدگی سے جاری رہا تو آنے والے وقت میں عدلیہ اور لاء ڈیپارٹمنٹس میں ایک نئی ثقافت ڈیجیٹل نظم و شفافیت کی ثقافت پروان چڑھے گی، جو قانون کی حکمرانی کو مضبوط اور عوامی اعتماد کو بحال کرے گی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا:“ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری وکلاء کو ایسی جدید سہولتیں دی جائیں جن سے وہ اپنے فرائض زیادہ مؤثر انداز میں ادا کر سکیں ، ‘کیم’ اور ‘پاکستان کوڈ’ جیسے نظام شفافیت، کارکردگی اور تیز تر انصاف کے ضامن ثابت ہوں گے۔” ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کا کہنا ہے کہ “ایڈووکیٹ جنرل آفس کے لاء افسران کو جدید قانونی ڈیجیٹل نظاموں تک رسائی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر قانون کی یہ پیشکش ہمارے ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنائے گی، اور ہم اپنے کام کو عوامی مفاد کے تقاضوں کے مطابق تیز اور شفاف بنائیں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: 8اکتوبر 2005ء کازلزلہ...مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن !