بہت یاد آتے ہیں۔۔۔!
از : دلبر خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہیں لیکن بار بار ایک ہی انداز میں ہارنا ضرور سوال پیدا کرتا ہے،پاکستان ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز ہار چکی ہے مگر آخری ٹیسٹ ابھی باقی ہے اور پاکستانی کرکٹ کی سب سے خوبصورت بات یہی ہے کہ یہ ٹیم جب سب سے زیادہ مشکلات میں ہوتی ہے تب بھی کسی ایک لمحے میں پورا منظرنامہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان ٹیم انگلینڈ میں آخر ہار کہاں رہی ہے؟ پاکستانی ٹیم انگلینڈ میں صرف میچ نہیں ہار رہی، بلکہ کچھ اور بھی کھو رہی ہے اعتماد، فیصلہ سازی اور مشکل حالات میں اپنے کھیل پر یقین۔
حالیہ ٹیسٹ سیریز پاکستان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہی، سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ دونوں ٹیسٹوں میں مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور کوئی بھی اننگز 200 رنز تک نہیں پہنچ سکی، مستقل مزاجی کبھی ہماری طاقت نہیں بن سکی، پاکستانی بلے باز انگلینڈ کی کنڈیشنز میں اپنی تکنیک کے بنیادی مسائل سے دوچار نظر آئے،اعتماد کی کمی، شراکت داری کا نہ بننا ہے وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
انگلینڈ میں نئی گیند، بادلوں سے بھرا موسم، ہوا میں نمی، سبز پچ، سوئنگ ہوتی گیند، سیم اور ڈیوک بال، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو بلے بازوں کا سخت امتحان لیتے ہیں کیا ہماری ٹیم ان سب سے نمنٹے کیلئے تیار تھی ، بالکل بھی نہیں ، ایک مضبوط بین الاقوامی ٹیم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح راستہ نکالے،انگلینڈ کے ہر دورے سے پہلے سب کو معلوم ہوتا ہے کہ گیند سوئنگ کرے گی، سیم کرے گی اور نئی گیند سب سے بڑا خطرہ ہوگی، پھر بھی جب اصل امتحان آتا ہے تو ہمارے بلے باز اکثر ایسے کھیلتے ہیں جیسے انہیں پہلی مرتبہ ان حالات کا سامنا ہوا ہو۔
ٹیسٹ کرکٹ میں ہر گیند کو باؤنڈری کے لیے مارنا ضروری نہیں، بعض اوقات بہترین شاٹ وہ ہوتا ہے جو بلے باز کھیلتا ہی نہیں، انگلینڈ میں گیند کو دیر سے کھیلنا، آف اسٹمپ کا اندازہ رکھنا، نئی گیند کو عزت دینا اور طویل شراکتیں قائم کرنا ضروری ہے، انگلینڈ میں بعض اوقات آپ کو رنز بنانے سے زیادہ وکٹ بچانے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ وکٹ پر وقت گزارنے کے بعد بیٹسمین کو گیند فٹبال نظر آتا ہے لیکن پاکستان کی حالیہ اننگز میں بار بار یہ محسوس ہوا کہ بلے باز گیند کو کھیلنے کے لیے مجبور نہیں تھے لیکن انہوں نے خود اسے کھیلنے کا فیصلہ کیا، یہ صرف تکنیک کا مسئلہ نہیں، گیند کو چھوڑنے کی صلاحیت کا بھی مسئلہ ہے، یہ معمولی فرق نہیں، یہی فرق ٹیسٹ میچ جتواتا اور ہرواتا ہے۔
پاکستان ٹیم میں کبھی کبھی کھلاڑی غلطی کے بعد غلطی سے بچنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں اور اسی چکر میں وہ دوسری غلطی کر بیٹھتے ہیں جبکہ انگلینڈ اپنی کمزوری کے باوجود اگلی گیند کے لیے منصوبہ بدل لیتا ہے، مشکل حالات میں اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ کھلاڑی ایک خراب گیند، ایک آؤٹ یا ایک چھوٹے سے دباؤ کے بعد اپنی بنیادی تکنیک اور منصوبے پر قائم رہتا ہے یا نہیں، انگلینڈ میں جیتنے کے لیے صرف اچھے کھلاڑی نہیں چاہییں، ایسے کھلاڑی چاہییں جو خراب موسم، سوئنگ ہوتی گیند، 30 ہزار تماشائیوں، 20 رنز کے خسارے اور مسلسل دباؤ کے باوجود اپنی بنیادی تکنیک نہ بھولیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر شکست کا ذمہ دار PCB نہیں ہوتا، بورڈ ٹیم کو میدان تک پہنچا سکتا ہے، کوچ فراہم کرسکتا ہے، کیمپ لگا سکتا ہے، مگر جب گیند سوئنگ ہو رہی ہو تو فیصلہ بلے باز نے کرنا ہے کہ گیند چھوڑنی ہے یا کھیلنی ہے؛ یہ فیصلہ کرکٹ بورڈ نہیں کرتا، اسی طرح کپتان حکمت عملی بنا سکتا ہے، مگر فیلڈر نے کیچ خود پکڑنا ہے، اس لیے ہر شکست کے بعد کسی ایک پر تنقید مسئلے کو آسان ضرور بناتی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں ہوتا، پاکستانی کرکٹ کو اس وقت قربانی کے بکروں کی نہیں بلکہ مستقل مزاجی، بہتر منصوبہ بندی اور طویل المدتی سوچ کی ضرورت ہے۔
سات کھلاڑیوں کی تبدیلی سے ٹیم میں نیا توازن ضرور پیدا ہوسکتا ہے اور امید ابھی ختم نہیں ہوئی اگر واقعی پاکستان کو انگلینڈ میں کامیابی حاصل کرنا تھی تو تیاری میدان میں اترنے سے بہت پہلے شروع کردینا چاہئے تھی، پاکستان کے پاس ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے، مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کھلاڑی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس ٹیلنٹ کو ان حالات کے لیے کتنی اچھی طرح تیار کرتے ہیں جہاں تکنیک، صبر، فیصلہ سازی اور ذہنی مضبوطی سب ایک ساتھ آزمائے جاتے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کی انگلینڈ میں حالیہ کارکردگی کو دیکھ کر جاوید میانداد، انضمام الحق، محمد یوسف، یونس خان، سلیم ملک، ظہیر عباس، سعید انور اور مصباح الحق کو آج ہر کوئی بہت یاد کر رہا ہے کیونکہ یہ وہ بلے باز تھے جن کے بیٹ بولتے تھے اور گوروں کے دیس میں بھی ان کا بلا رنز اگلتا تھا، انگلینڈ کی سبز پچ ہو، آسمان پر بادل ہوں، گیند ہوا میں لہرا رہی ہو یا فاسٹ باؤلر نئی گیند کے ساتھ بلے باز کا امتحان لے رہا ہو، ان کھلاڑیوں کے کھیل میں ایک ٹھہراؤ، ایک یقین اور ایک کلاس نظر آتی تھی، وہ جانتے تھے کہ ہر گیند کو مارنا ضروری نہیں، کبھی وکٹ پر کھڑے رہنا بھی ٹیم کے لیے سب سے بڑی خدمت ہوتی ہے، ان کی اننگز صرف رنز کا مجموعہ نہیں ہوتیں تھیں بلکہ مشکل حالات میں پوری ٹیم کے لیے حوصلے کی علامت بن جاتی تھیں، آج جب پاکستانی بیٹنگ بار بار دباؤ میں بکھرتی نظر آتی ہے تو ان عظیم بیٹسمینوں کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، شاید اسی لیے دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے، بہت یاد آتے ہیں۔۔۔!