سپر پاور بننے کا لائحہ عمل طے کر نے کے لئے چین میں بڑی ہلچل

Mar 07, 2021 | 20:24:PM
سپر پاور بننے کا لائحہ عمل طے کر نے کے لئے چین میں بڑی ہلچل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)بیجنگ میں اس ماہ ملک کی سیاسی اشرافیہ کے پانچ ہزار سے زیادہ افراد قوم کی مقننہ اور اعلیٰ ترین مشاورتی اداروں کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔عام زبان میں ان کو ’دو اجلاس‘ کہا جاتا ہے اور اس میں چین کی پیپلز پولیٹکل کنسلٹیٹیو کانفرنس (سی پی پی سی سی) اور نیشنل پیپلز کانگرس (این پی سی) کے ارکان آنے والے سال کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی اور منصوبے مرتب کرتے ہیں۔

تفصیلات کےمطا بق اس سال سی پی پی سی سی کا اجلاس چار مارچ سے دس مارچ تک منعقد ہو رہا ہے جب کہ این پی سی کا اجلاس 5 مارچ کو شروع ہوچکا ہے۔رواں سال سنہ 2021 سے چین کے چودہویں پنج سالہ پلان کا آغاز بھی ہو رہا ہے اور اس برس کیمونسٹ پارٹی کے قیام کے سو سال بھی مکمل ہو رہے ہیں۔عام طور پر مارچ کے مہینے میں منعقد ہونے والے یہ اجلاس چین کے سیاسی کلینڈر میں سب سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں اہم قانون سازی، قواعد و ضوابط، سرکاری رپورٹس، بجٹ اور مرکزی حکومت کے آنے والے سال کے ایجنڈے سمیت اہم حکومتی امور پر توجہ مرکوز رہتی ہے اور سپر پاور بننے کا لائحہ عمل تیز کرنے کا فیصلہ بھی متو قع ہے۔
اس سال ان اجلاسوں میں توجہ کا مرکز چین کا اگلا پنج سالہ منصوبہ اور اس کے طویل المدتی معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف ہیں جو 2035 تک حاصل کیے جانے ہیں۔اگلے ساڑھے چھ دنوں میں سی پی پی سی سی اور این پی سی کے الگ الگ لیکن ایک ہی وقت میں اجلاس منعقد ہوں گے۔سی پی پی سی سی ملک کا اعلی ترین مشاورتی ادارہ ہے۔ کیمونسٹ جماعت کے مندوبین کے علاوہ اس میں 2200 ارکان دیگر جماعتوں اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے جن میں سائنس، کھیل، ثقافت اور تجارت شامل ہیں وہ بھی شرکت کرتے ہیں۔


ملکی آئین کے مطابق این پی سی سب سے بااختیار ادارہ ہے لیکن بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اسے اکثر ’ربڑ سٹیمپ‘ یا حکومت کے ہر اقدام پر مہر تصدیق ثبت کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔اس میں ملک کے تمام صوبوں، خود مختار علاقوں، مرکز کے زیر انتظام مونسپل اداروں، ہانگ کانگ اور مکاو¿ کے انتظامی خطوں اور ملکی کی مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے تین ہزار ’ڈپٹیز‘ یا مندوبین شرکت کرتے ہیں۔اس سال اجلاس میں چین کا چودہواں پنج سالہ منصوبہ زیر غور آئے گا اور اس کے علاوہ ملک کے طویل المعیاد منصوبوں پر بحث کی جائے گی جو 2035 تک مکمل کیے جانے ہیں۔

اس سال کے اجلاس کے ایجنڈے میں معاشی ترقی، ٹیکنالوجی میں نئی پیش رفت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے امور بھی شامل ہیں۔جدید ترین ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کا حصول اور مقامی طور پر طلب میں اضافہ کرنا جو چین کی حال ہی میں اختیار کردہ ترقی کی ’ڈیول سرکولیشن‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کی بنیاد مقامی اور غیر ملکی منڈیوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا بھی اس اجلاس کا مرکزی نکتہ ہو گا۔ منصوبے میں پہلی مرتبہ جدید ٹیکنالوجی کو ملک کی معاشی ترقی کا ستون بنانے کے موضوع کو ایک علیحدہ باب کے طور پر شامل کیا گیا ہے جو ایک ایسا معاملہ ہے جس پر چین اور امریکہ کے درمیاں شدید مسابقت پائی جاتی ہے۔چین نے ٹیکنالوجی میں جدت اور خود انحصاری کو اگلے پندرہ برس کے لیے ایک قومی ترجیح بنایا ہے۔
سنہ 2021 کے ’دو اجلاس‘ ایک ایسے وقت منعقد کیے جا رہے ہیں جب کووڈ 19 کی وبا سے ہونے والے معاشی نقصان کے بعد ملک ایک مرتب پھر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کووڈ 19 کی وبا کے دوران چین کی شرح نمو متاثر ضرور ہوئی تھی لیکن وہ دنیا کے بیشتر ملکوں کی طرح منفی میں نہیں گئی تھی۔
اس سال کے اجلاس اس لحاظ بھی اہم ہیں کہ وہ صدر شی جی پنگ کے کردار کو کووڈ 19 کی وبا کے بعد کے دور میں مستحکم کریں گے۔ یہ اجلاس اس بات کا بھی موقع فراہم کریں گے کہ صدر ڑئی جی پنگ کی میراث، ملک کے مستقبل اور چین کی عالمی ساکھ کے لیے طویل المعیاد اہداف بھی مقرر کریں۔ان دو اجلاسوں کے لیے سنہ 2020 میں کووڈ 19 کی وجہ سے جو احتیاطی تدابیر وضح کی گئیں تھیں وہ ہی لاگو رہیں گی۔ دونوں اجلاسوں کو تقریباً ایک ہفتے کے لیے محدود کر دیا گیا جبکہ کہ عام طور پر یہ پندرہ دن تک جاری رہتے ہیں۔