بھارتی کوششیں ناکام ۔۔طالبان کا پہلا بین الاقوامی سفارتی رابطہ تسلیم کرلیا گیا

Sep 20, 2021 | 12:19:PM
بھارتی کوششیں ناکام ۔۔طالبان کا پہلا بین الاقوامی سفارتی رابطہ تسلیم کرلیا گیا

(مانیٹرنگ ڈیسک) تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس  میں طالبان حکومت کی درخواست پر افغانستان کی نشست کو خالی رکھا گیا، اسے طالبان حکومت کا پہلا سفارتی رابطہ کہا جاسکتا ہے جسے سنا بھی گیا۔

 تفصیلات کے مطابق افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح ، جو تاجکستان فرار ہوچکے ہیں نے بھارت کی فعال حمایت سے اجلاس میں افغانستان کی نشست پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن دیگر رکن ممالک نے امراللہ صالح کی اس کوشش کو ناکام بنادیا۔

 میڈیا ذرائع کےمطابق افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ ملا امیر متقی کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے چند ممبران اور سیکرٹریٹ کو ایک خط لکھا گیا،  ایس سی او ممبران سمیت سیکرٹریٹ کو لکھے گئے خط میں  افغان وزیر خارجہ نے سفارتی شائستگی کا لہجہ  اپناتے ہوئے   آگاہ کیا کہ موجودہ افغان  حکومت ملکی مسائل حل کرنے میں مصروف ہے لہٰذا اجلاس کے دوران افغانستان کی نشست کو خالی رکھا جائے۔

 خط میں رکن ممالک کو یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ افغانستان مستقبل میں تنظیم کی تمام  کوششوں میں مکمل تعاون کرے گا اور علاقائی امن  و استحکام سے متعلق اپنا مشن  جاری رکھے گا۔

  طالبان کی جانب سے کئے گئے رابطے  پر تنظیم کے بیشتر رکن ممالک نے بھرپور خیر مقدم کیا  لیکن بھارت نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کی اور بیک ڈور چینلز استعمال کرتے ہوئے گزشتہ ماہ اشرف غنی کےافغانستان سے فرار ہونے کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے امراللہ صالح کی جانب سے افغانستان کی نمائندگی کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امر اللہ صالح نے  اشرف غنی کے فرار ہونے کے بعد ملک کا نگران صدر ہونے کا دعویٰ  کیا تھا اور پنجشیر منتقل ہوگئے تھے تاہم طالبان کی جانب سے امر اللہ صالح کے حامیوں کو پنجشیر سے نکال دیئے جانے کے بعد امراللہ صالح وہاں سے بھی  فرار ہوگئے اور تاجکستان میں پناہ لے لی۔بھارتی وفد نے امراللہ صالح اور احمد مسعود سے خفیہ رابطے قائم کئے،  امر اللہ صالح اور احمد مسعود طالبان کے حملے کے بعد تاجکستان فرار ہوگئے تھے اور اب دوشنبے میں ہی رہائش پذیر ہیں۔

 واضح رہے کہ روس ، چین ، پاکستان ، قازقستان ، کرغیزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بھارت اس تنظیم کے رکن ہیں، ایس سی او سمٹ  میں ایران کو مکمل رکن جبکہ سعودی عرب، مصر اور قطر کو بطورمبصرشامل کیا گیا جبکہ افغانستان نے خطے کے دوسرے ممالک کی طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں مبصر ملک کا درجہ حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو بیرون ممالک سے کیا تحفے ملے۔۔حکومت تفصیلات دینے سے انکاری