مطیع اللہ جان اور ابصار عالم پر حملے کے مقدمات میں پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار

Mar 11, 2024 | 11:27:AM
مطیع اللہ جان اور ابصار عالم پر حملے کے مقدمات میں پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری) سپریم کورٹ میں ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغواء اور صحافی ابصار عالم پر حملے کے مقدمات میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر انسپکٹر جنرل اسلام آباد پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت اور نعیم اختر افغان مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں، سماعت کے آغاز میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ایک کرائم کی ریکارڈنگ موجود ہے مگر ان ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکے؟ اٹارنی جنرل صاحب یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ ان کو ہٹا دیا جانا چاہیئے، چار سال ہوگئے ہیں اور آپ کو کتنا وقت چاہیئے؟

قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا آپ کو چار صدیاں چاہیئے ہیں؟ آئی جی صاحب آپ آئے کیوں ہیں یہاں؟ کیا آپ اپنا چہرہ دکھانے آئے ہیں؟ کسی صحافی کو گولی مار دی جاتی ہے، کسی کی گھر میں جا کر پٹائی کی جاتی ہے۔

اس موقع پر پریس ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ اسد طور جیل میں ہیں، چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ وہ کیوں جیل میں ہیں؟ جس پر بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ اسد طور پر سرکاری افسران کا وقار مجروح کرنے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیر اعظم نے مشاورت مکمل کر لی، وفاقی کابینہ آج حلف اٹھائے گی

جسٹس عرفان سعادت خان نے پوچھا کہ کیا ایف آئی آر میں ان افسران کا ذکر ہے جن کا وقار مجروح ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ ایف آئی آر میں کسی افسر کا نام نہیں لکھا ہے۔

سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد کے عدالتی سوالات کے جواب نا دینے پر چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر سوال کے جواب میں آپ مائی لارڈ، مائی لارڈ کہنے لگ جاتے ہیں، اگر اب مائی لارڈ کہا تو آپ کو جرمانہ کروں گا، لگتا ہے جی اسلام آباد ملزمان کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسد طور کے خلاف مقدمہ میں سنگین نوعیت کی دفعات عائد کی گئی ہیں، حساس معلومات سمیت عائد دیگر دفعات کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ انکوائری نوٹس میں لکھا گیا کہ عدلیہ کے خلاف مہم پر طلب کیا جا رہا ہے لیکن ایف آئی آر میں عدلیہ کے خلاف مہم کا ذکر تک نہیں، یہ تو عدلیہ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی گئی ہے۔

اس پر بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے پہلے ہی جے آئی ٹی قائم کی گئی، جے آئی ٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کا نمائندہ جے آئی ٹی میں کیسے شامل ہوسکتا؟ آئی ایس آئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں، قانون کا نفاذ آئی ایس آئی کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیوں نہ ایف آئی اے کو توہین عدالت کا نوٹس دے دیں؟ سپریم کورٹ کے کسی جج نے ایف آئی اے کو شکایت کی نہ رجسٹرار نے، سپریم کورٹ کا نام استعمال کرکے تاثر دیا گیا جیسے عدلیہ کے کہنے پر کارروائی ہوئی، اس طرح تو عوام میں عدلیہ کی ساکھ خراب ہوگی، ایف آئی اے کے متعلقہ افسر خود عدلیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت میں مختصر وقفہ کردیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے صحافیوں کو جاری نوٹسز پر کارروائی مؤخر کرنے کے لیے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت مارچ تک ملتوی کردی تھی۔

 29 جنوری کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو بھجوائے گئے نوٹسز فوری واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے صحافیوں پر تشدد کیخلاف دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کی تھی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کو صحافیوں کے ساتھ ملاقات کی ہدایت بھی کی تھی۔