پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے چین مصنوعی ذہانت کو ترجیح کیوں دے رہا ہے ؟

تحریر :علی رامے

Mar 08, 2024 | 23:57:PM
پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے چین مصنوعی ذہانت کو ترجیح کیوں دے رہا ہے ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

چین معیاری پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے مستقبل میں مصنوعی ذہانت یعنی  (AI) کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات پر توجہ دے گا۔جس سے چین اپنےملکی صنعتی نظام کو جدید بنائے گا  اور نئی معیاری پیداواری قوتوں کو تیار کرے گا۔

چین میں ٹو سیشن کے نام سے جاری اجلاس اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا جہاں مصنوعی ذہانت پر مزید توجہ دی جارہی ہے، چین میں مصنوعی ذہانت کو ایک ابھرتی ہوئی اور مستقبل پر مبنی صنعت سمجھا جارہا ہے، چین میں جاری "دو سیشنز" کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل اس لیے بھی سمجھا گیا ہے کہ نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کی قومی کمیٹی کے سالانہ اجلاسوں میں مصنوعی ذہانت کے موضوع کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے ۔جس میں کمپیوٹنگ پاور، سٹوریج پاور اور AI سے متعلق سیکورٹی جیسے موضوع پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

 رواں سال 2024 میں چین کی سیاسی صورتحال اور مستقبل میں اہم اقدامات پر جاری ان دو سیشنز پر  عالمی میڈیا کی بھی گہری نظر ہے جس میں AI صنعت کی ترقی سے متعلق چین کی پالیسیوں اور 
اقدامات پر بھرپور کی جارہی ہے۔

بیجنگ میں این پی سی اجلاس میں پیش کی گئی حکومتی  رپورٹ کے مطابق، چین اپنے صنعتی نظام کو جدید بنانے اور نئی معیاری پیداواری قوتوں کو تیز رفتاری سے تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔ رپورٹ میں  حکومتی ترجیحات پر مبن حکمت عملی کی ایک مفصل رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں ڈیجیٹل معیشت کی اختراعی ترقی اور اے پلس جیسے اقدامات کا آغاز بھی شامل ہے۔ چین مستقبل میں صنعتی شعبے کی تجدید کو فروغ دینے اور کمپیوٹنگ پاور سنٹرز کی تعمیر کو تیز کرنے کے عمل کو  اپنی ترجیحات میں اہم کردار ادا گا۔ جس میں ماڈل الگورتھم، ذہین روبوٹس، اور ذہین چپس کی ترتیب کو بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کیں جائیں گیں۔

چین مستقبل میں ڈیٹا اسٹوریج کو بڑھانے کے لیے بھی اہم اقدامات کرے گاکیونکہ بہت سارے شعبوں میں AI کو لاگو کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سپورٹ کی ضرورت ہوتی  ہے،کیو کہ اسٹوریج سسٹم ڈیٹا کے کیریئر انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ان کا تعلق ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کی صنعتی سلامتی سے بھی جڑا ہے جسے چین کبھی بھی نظرانداز نہیں کرے گاجبکہ ٹیکنالوجی سے وابستہ متعدد شعبوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا ،جیسا کہ میڈیکل امیجنگ، سمیت بیماری کی تشخیص بھی شامل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اے آئی ڈیٹا  اسٹوریج اور کمپیوٹنگ پاور کے درمیان عدم توازن  سےچین میں AI کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔جس کے لیے اب موثر پالیسیاں مرتب کرنے پر زیادہ زور دیا جارہا ہے ۔اگرچہ AI ٹیکنالوجی کی ترقی نے پیداواری صلاحیت کو بہت بہتر کیا ہے، مگر اس کے ضابطے کو چیلنجوں کا سامنا  بھی کرنا پڑ رہا ہے۔اور اس لیے این پی سی نے   ٹو سیشن میں موجودہ  اے آئی کے کنٹرول کے اقدامات کو اب بہتر کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی ہے۔
جس سے چین AI کے استعمال اور اطلاق کے لحاظ سے حدود اور ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے لیے بھی اقدامات کرے گا، تاکہ عوام کی حفاظت اور مفادات کا بہتر طور پر تحفظ کیا جا سکے اور ایسا  گورننس فریم ورک بھی تیار ہونس ضروری ہے جس پر عالمی اتفاق رائے ہو لیکن مصنوعی ذہانت کے حوالے سے یہ تجاویز بھی سامنے آئیں ہیں کہ چینی حکومت کو قومی، صنعتی اور شہری سطح پر پبلک سروس ڈیجیٹل سیکیورٹی انفراسٹرکچر کا انتظام بھی کرنا ہو ہوگا، اور ڈیجیٹل سیکیورٹی پر مرکوز ایک جدید، پیداواری سروس جیسی انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز:
علی رامے

علی رامے سٹی نیوز نیٹ ورک سے وابستہ ایک سینئر تحقیقاتی رپورٹر ہیں۔ وہ 2013 سے اس گروپ سے وابستہ ہیں اور بنیادی طور پر پنجاب حکومت کے ماتحت محکموں میں تحقیقاتی اور دلچسپ  اسٹوریز کا احاطہ کرتے ہیں۔