نیب ترمیمی آرڈیننس جاری، کرپشن کے ملزم کی ضمانت سے متعلق اہم خبر آگئی

Oct 06, 2021 | 18:41:PM
صدر جتنی چاہیں، احتساب عدالت، چیف جسٹس ہائیکورٹ
کیپشن: قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا،آرڈیننس کو نیب دوسرا ترمیمی آرڈیننس2021 کانام دیا گیا ہے ۔آرڈیننس کے مطابق نیب ملزم کو کرپشن کی رقم کے مساوی زرضمانت جمع کرنے پر ضمانت مل سکے گی،احتساب عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے کیس نمٹائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:حریم شاہ کے ڈانس کی نئی ویڈیو وائرل
نیب ترمیمی آرڈیننس2021 کے مطابق صدر جتنی چاہیں ملک میں احتساب عدالت قائم کر سکتے ہیں ،صدر متعلقہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کی مشاورت سے ججز مقرر کرینگے ،احتساب عدالتوں کے ججز کا تقرر3 سال کیلئے ہو گا۔
آرڈیننس کے مطابق صدر ،چیئرمین نیب کا تقرر ،وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر مشاورت سے کرینگے ،صدر اتفاق رائے نہ ہونے پر چیئرمین کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے ،پارلیمانی کمیٹی میں 12 ارکان شامل ہونگے جو اتفاق رائے پیدا کرینگے ،نئے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت چار سال ہو گی ،نئے چیئرمین کے تقرر تک موجودہ چیئرمین نیب کام جاری رکھیں گے ،4 سال مکمل ہونے پر آئندہ 4 سال کیلئے چیئرمین نیب کی تعیناتی ہو گی ،دوبارہ تعیناتی کیلئے تقرری کا طریقہ کارہی اختیار کیاجائے گا۔
آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ کے ججز کی طرح ہی ہٹایا جا سکے گا،چیئرمین نیب اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوائیں گے ،آرڈیننس کے تحت تمام جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے،ایڈیشنل سیشن جج بھی احتساب عدالت کے جج بن سکیں گے،ملزم کی ضمانت کااختیار بھی ٹرائل کورٹ کے پاس ہو گا۔

نئے نیب آرڈیننس میں فیصلہ سازی کے اہم ادارے نیب کی گرفت سے باہر قرار دیئے گئے،مشترکہ مفادات کونسل ، این ای سی، این ایف سی، ایکنک کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار سے باہرقراردیئے گئے،آرڈیننس کے مطابق نیب قانون کا اطلاق وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکسیشن کے معاملات پر نہیں ہوگا،وفاقی ،صوبائی کابینہ، کمیٹیوں ، ذیلی کمیٹیوں کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہونگے،سی ڈی ڈبلیو پی، پی ڈی ڈبلیو پی کے فیصلے بھی نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہونگے،قواعدکی بے ضابطگی سے متعلق عوامی یا حکومتی منصوبے بھی نیب کے دائرہ اختیار سے باہرقراردی گئی۔
آرڈیننس کے مطابق نیب ملزم کو کرپشن کی رقم کے مساوی زرضمانت جمع کرنے پر ضمانت مل سکے گی،احتساب عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے کیس نمٹائے گی،چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے ریفرنس دائر کریں گے،ریفرنس ملک بھر میں کسی بھی احتساب عدالت میں دائر کیا جا سکے گا،احتساب عدالت کو شہادت ریکارڈ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی اجازت ہو گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے نیب آرڈیننس پر وزارت قانون، اٹارنی جنرل آفس کے درمیان زرضمانت کی شق پر اختلاف تھا،اٹارنی جنرل آفس کی رائے تھی کہ زرضمانت کی رقم کا تعین عدالت کی صوابدیدہ ہونا چاہئے،اٹارنی جنرل آفس نے رائے دی کہ آرڈیننس چیلنج ہوا تویہ شق برقرار نہیں رہ سکے گی،وزارت قانون کی رائے تھی کہ جتنی رقم کا کیس ہے اتنی رقم ہی زرضمانت ہو گی ،وزارت قانون نے اٹارنی جنرل آفس کی رائے کو نظرانداز کرکے آرڈیننس میں شق شامل کردی۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں بڑاسیاسی بحران پیدا، جام کمال سے ناراض ارکان کا بڑا فیصلہ