امریکا سےموثر بات چیت کا قائل ہوں۔۔روسی صدر 

Dec 30, 2021 | 20:20:PM
 ولادی میر, پیوٹن, جو بائیڈن
کیپشن:  ولادی میر پیوٹن اور جو بائیڈن(فائل فوٹو)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے باور کرایا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ موثر بات چیت کے قائل ہیں۔پیوٹن  کا یہ موقف آج امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے ساتھ مقررہ ٹیلی فونک رابطے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا ہے۔

العریبہ چینل کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب کہ یوکرین کے حوالے سے روس اور مغرب کے بیچ تناؤ پایا جا رہا ہے۔ پیوٹن  نے ایک ٹیلی گرام میں لکھا کہ "میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہمارے لئے آگے بڑھنا اور ایک ایسا روسی امریکی مؤثر مکالمہ ممکن ہے جو متبادل احترام اور ہم میں سے ہر کسی کے قومی مفادات کی رعائت پر مبنی ہو"۔ یہ بات کریملن ہاؤس نے بتائی۔اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے درمیان آج جمعرات کے روز بات چیت ہو گی۔ یہ بات چیت واشنگٹن کی جانب سے اپنے حلیفوں کے ساتھ کام جاری رکھنے کی کوشش کے سلسلے میں ہے۔ اس کا مقصد یوکرین کی سرحد پر روسی عسکری کمک پر مشترکہ رد عمل سامنے لانا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں سربراہان کے درمیان مقررہ بات چیت گرینچ کے وقت کے مطابق رات 8:30 پر ہو گی۔

یادرہے کہ یوکرین کی سرحد پر روس کے اکٹھا ہونے والے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ہو چکی ہے۔ اس کے سبب اندیشہ پھوٹ رہے ہیں کہ ماسکو یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ماسکو گذشتہ دو ماہ سے یوکرین کی سرحد پر ہزاروں فوجی اکٹھا کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک کو شدید پریشانی لاحق ہے۔ روس 2014ء میں یوکرین کے جزیرہ نما قرم پر قبضہ کر چکا ہے۔ وہ یوکرین کے مشرق میں سرکاری فوج کے خلاف لڑنے والے علیحدگی پسندوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بالی ووڈ انڈسٹری کے لئےگز شتہ سال کی طرح 2021 بھی ایک ڈراؤنا خواب ثابت