سٹیٹ بینک کا ہنگامی اجلاس، شرح سود میں اضافہ کردیا

Jun 26, 2023 | 18:14:PM
سٹیٹ بینک کا ہنگامی اجلاس، شرح سود میں اضافہ کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے  شرح سود میں ایک فیصد کا اضافے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں شرح سود 21 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیاموجودہ ملکی غیریقینی اور بیرونی کمزوریوں سے مؤثر طور پر نمٹنے سے مشروط کیا گیا ہے ،تاہم کمیٹی نے گذشتہ اجلاس کے بعد سے ملک میں  دو اہم تبدیلیاں نوٹ کی ہیں،جن سے مہنگائی کا منظرنامہ تھوڑا سا بگڑ گیا ہے، کمیٹی کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاونٹ پر دباو بٹھ سکتا ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسون ،ڈیوٹیز اور پی ڈی ایل ریٹ میں کچھ اضافے کئے گئے ہیں ،23 جون کو اسٹیٹ بینک نے درآمدات  پر عائد پابندی واپس لے لی ہیں،پالیسی کمیٹی آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کی تکمیل کے تناظر میں ان اقدامات کو ضروری سمجھتی ہے، تاہم ان سے مہنگائی کے منظرنامے میں اضافے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اجلاس کمیٹی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اضافی ٹیکس اقدامات سے بلاواسطہ اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا جبکہ درآمدات پر پابندیوں میں نرمی سے زرمبادلہ مارکیٹ پر دباؤ پڑسکتا ہے، توقع سے زیادہ ایکسچینج ریٹ کی ملکی نرخوں کو منتقلی ہوسکتی ہے۔

سٹیٹ بینک  کے مطابق  شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اطلاق 27 جون 2023 سے موثر ہوگا ،پالیسی کمیٹی  بنیادوں پر حقیقی شرح سود کو مضبوطی سے مثبت رکھنے کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔

سٹیٹ بینک کا مزید کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ، جبکہ مہنگائی کو مالی سال 25 کے آخر تک 5 سے 7 فیصڈ کے وسط مدتی ہدف کی حدود میں لانے میں مدد ملے گی۔