پاکستانی دوکان پرمعمولی دیہاڑی لینے والا بھارتی کرکٹر آج کروڑوں کما رہا ہے 

Apr 26, 2022 | 17:57:PM
رائل چیلنجرز, بنگلور, کھلاڑی, ہرشل پٹیل
کیپشن: رائل چیلنجرز بنگلور کا کھلاڑی ہرشل پٹیل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈین پریمئیر لیگ2022 میں رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے کھیلنے والے ہرشل پٹیل آج  کروڑوں روپے کما رہے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا تھا جب وہ امریکا میں ایک پاکستانی کی دکان پر 12 گھنٹے کام کرتے تھے اور انہیں روزانہ 1500 روپے ملتے تھے۔
 بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ہرشل پٹیل کو رائل چیلنجرز بنگلور نے آئی پی ایل 2022 کی میگا نیلامی سے پہلے ریلیز کردیا تھا۔ جبکہ گزشتہ سیزن میں انہوں نے سب سے زیادہ 32 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ آر سی بی کے اس فیصلے پر سبھی حیران تھے۔ لیکن نیلامی میں  آر سی بی نے ہرشل کو 10.75 کروڑ کی قیمت میں خریدا ۔ پچھلے سیزن میں ہرشل کو بطور سیلری 20 لاکھ روپے ملے تھے اور ایک جھٹکے میں وہ 50 گنا زیادہ تنخواہ پر آر سی بی کے ساتھ شامل ہوگئے۔اس سے قبل ہرشل کے لئے ہمیشہ سے سب کچھ انتا چمکدار نہیں تھا ۔ آج بھلے ہی وہ کروڑوں کما رہے ہیں  لیکن ایک وقت ایسا تھا جب وہ ایک چھوٹی سی دکان پر 12 گھنٹے کام کرتے تھے اور انہیں روزانہ 1500 روپے ملتے تھے، وہ بھی امریکہ جیسے ملک میں۔ انہیں اپنی زندگی میں کئی بار ٹھکرایا گیا، ایک مرتبہ انہیں آئی پی ایل کے دوران ہی گھر بھیج دیا گیا تھا ۔ لیکن ہر مرتبہ یہ بالر حالات سے لڑا اور چیمپئن بن کر ابھرا۔ہرشل پٹیل نے بھارتی ٹی وی پروگرام'بریک فاسٹ ود چیمپئنز' شو میں اپنی زندگی سے وابستہ ان اچھوتے پہلوؤں کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کنبہ امریکہ کیسے گیا اور وہ ایک پاکستانی دکاندار کی پرفیوم شاپ پر کیسے کام کرتے تھے ، جہاں انہیں 14 سال پہلے 35 ڈالر یومیہ یعنی تقریباً 1500 روپے ملتے تھے۔ یہ رقم امریکہ میں زندگی گزارنے کیلئے کافی کم تھی۔ لیکن وہ ان حالات سے بھی نہیں گھبرائے اور لڑتے رہے ۔ہرشل 2017 میں آر سی بی کے ساتھ تھے۔ پھر ایک دن ٹیم کے کوچنگ سٹاف میں شامل ڈینیل ویٹوری نے انہیں بلاکر کہا کہ وہ اگلے 4-5 میچوں میں نہیں کھیلیں گے۔ ٹیم کو جب بھی انکی ضرورت ہوگی ، انہیں بلالیا جائے گا۔ انہیں لیگ کے دوران گھر بھیج دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ہرشل نے ویٹوری کو  پیغام بھیج کر ایک میچ کھلانے کی درخواست کی تھی ۔ہرشل نے اس انٹرویو میں بتایا کہ بچپن سے میں نے اپنے والد کو ہفتے میں ساتوں دن کام کرتے دیکھا ہے۔ سردی، گرمی، برسات کوئی بھی ہو وہ کام کرتے تھے ۔ میرے والدین 2008 میں امریکہ گئے تھے۔ تب میری عمر 17 سال تھی اور یہ معاشی کساد بازاری کا سال تھا۔ اس وقت بھارت کے لوگوں  کی تعلیم بہت اچھی نہیں تھی اور وہاں کی زبان نہیں جانتے تھے، انہیں وہاں جا کر برسوں مزدوری کرنی پڑتی تھی ۔ چنانچہ میں نے نیو جرسی میں ایک پاکستانی شخص کی پرفیوم کی دکان پر کام کرنا شروع کردیا۔ انگریزی نہیں آتی تھی، کیونکہ تمام پڑھائی گجراتی میڈیم میں ہوئی تھی۔ وہ علاقہ جہاں یہ دکان تھی۔ لاطینی اور افریقی امریکی وہاں رہتے تھے۔ اس کی انگریزی بول چال باقی امریکیوں سے بالکل الگ تھی۔ میں نے آہستہ آہستہ اس گینگسٹر کی انگریزی سیکھ لی۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کو بیرون ملک سفر کرنے روک دیا گیا