مرغیوں کی انتڑیوں اور پنجوں سے آئل تیار کیا جاتا ہے ۔۔ پی اے سی میں انکشاف 

Jan 13, 2022 | 22:47:PM
پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ۔ انکشاف۔چکن۔ آئل۔ استعمال
کیپشن: چکن ویسٹ۔۔ککنگ آئل

 (نیوز ایجنسی) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں انکشاف ہواہے کہ چکن کی انتڑیوں اور پنجوں سے آئل تیار کیا جاتا ہے جو ملک میں استعمال ہورہاہے ۔

 چیئر مین کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہاکہ سائنس و ٹیکنالوجی ایک بہت اہم وزارت ہے، بعض ممالک میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا جاتا ہے۔رانا تنویر حسین نے کہاکہ ہمارے ہاں اداروں کی استعداد کار کا فقدان ہے۔ رکن پی اے سی سید حسین طارق نے کہاکہ ملک میں چکن کے ویسٹ سے کوکنگ آئل بنایا جارہا ہے، ہوٹلوں میں چکن ویسٹ سے بنا کوکنگ آئل استعمال ہورہا ہے۔ سید حسین طارق نے کہاکہ سندھ میں خصوصاً ایسی بہت سی فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ رکن پی اے سی نے کہاکہ چکن کی انتڑیوں اور پنجوں سمیت ویسٹ پگھلا کر آئل تیار کیا جاتا ہے،چیئرمین پی اے سی نے کوالٹی کنٹرول اتھارٹیز کو کاروائی کی ہدایت کر دی۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ ایک بات طے ہے نون لیگ کی حکومت آئی تو رانا تنویر وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ہونگے۔ رکن پی ٹی آئی ریاض فتیانہ نے کہاکہ اس کیلئے آپ 2028 تک انتظار کریں۔

 بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہاکہ چیئر مین نیب کو 26 جنوری کو پی اے سی اجلاس میں بلا رہے ہیں، وزیر اعظم آفس نے اس معاملے سے اپنے آپ کو نکال لیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ چیئر مین نیب خود اس میں ملوث ہے یا کوئی ماتحت افسر۔رانا تنویر حسین نے کہاکہ اگر یہ چیئر مین نیب نے کیا ہے تو کمیٹی ریفرنس دائر کرنے پر غورکرےگی،اگر کسی افسر نے خود یہ کیا ہے تو چیئر مین نیب کو اسکے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ پی اے سی نے آڈیٹر جنرل آفس کے آڈٹ کی بھی ہدایت کی ہے، بعض ادارے آڈٹ کے معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مسئلہ کوئی نہیں ہوتا سب اپنی اپنی راجدھانی میں گھسے ہوتے ہیں، آڈیٹر جنرل کو ایک مثال قائم کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ بطور آڈیٹر جنرل انہیں اپنے ادارے کو سب سے پہلے احتساب کیلئے پیش کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے نیشنل بنک سمیت نو دس اداروں کا آڈٹ شروع کرا دیا ہے، جو ادارے آڈٹ نہیں کرا رہے ان کی فہرست مانگ لی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ بعض لوگ ایزی منی کیلئے لوگوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ رانا تنویر حسین نے کہاکہ اس کھیل میں ملوث افراد کو پکڑا جا سکتا ہے، میں جب وزیر تھا تو کراچی میں ایسے سارے کارخانے بند کروا دیئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ مرغیوں کی فیڈ میں سور کا گوشت بھی شامل کیا جاتا تھا، میں نے فیصل آباد میں ایسی فیکٹریاں بھی سیل کروا دی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ بیان حلفی اور قرآن پر حلف لیا تھا کہ آئندہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ رانا تنویر حسین نے یوٹیلٹی اسٹورز پر گھی کے معیار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیئے۔ انہوں نے کہاکہ یوٹیلٹی اسٹورز والے جس طرح کا گھی بیچ رہے ہیں پتہ نہیں لوگوں کے ضمیر مردہ ہو گئے یا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔پارلیمانی اجلاس۔۔ وزیر اعظم اور وزیر دفاع میں تلخ کلامی۔۔ عمران خان نے اپوزیشن کو حکومت دینے کی دھمکی دیدی