وزیراعظم کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کااجلاس، نیشنل کرائسز انفارمیشن مینجمنٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ 

Sep 09, 2021 | 22:05:PM
وزیراعظم کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کااجلاس، نیشنل کرائسز انفارمیشن مینجمنٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ 

(24 نیوز)وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل کرائسز انفارمیشن مینجمنٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ،وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات کرائسز مینجمنٹ سیل کی نگران ہوں گی ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا،حکومت کی جانب سے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں افغانستان کی صورتحال اور ملک پر اس کے ممکنہ مضمرات کا جائزہ لیاگیا، کمیٹی نے نیشنل ایکشن پلان کے قلیل، وسط اور طویل مدتی اہداف کا جائزہ لیا،اجلاس میں وفاقی وزرافوادچودھری، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، شوکت ترین نے شرکت کی،اجلاس میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور مشیر قومی سلامتی بھی شریک ہوئے۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سائبرسکیورٹی، جاسوسی ، سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مختلف اقدامات پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں عدالتی اورسول اصلاحات سے متعلق اقدامات پر بھی فوری عملدرآمدکا فیصلہ کیاگیا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ہر ہدف کیلئے کارکردگی کے معیار اور ٹائم لائنز دینے کافیصلہ کیاگیا،اجلاس میں نیشنل کرائسز انفارمیشن مینجمنٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا اس کے علاوہ پرتشددانتہاپسندی سے نمٹنے کے اقدامات پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیاگیا۔

اجلاس میں قومی سلامتی کو براہ راست متاثر کرنےوالے عوامل سے نمٹنے کے اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ کیاگیا،وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات کرائسز مینجمنٹ سیل کی نگران ہوں گی ۔

اجلاس میں سی پیک اور نان سی پیک پر کام کرنے والے غیرملکیوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کا فیصلہ کیاگیا،اعلامیہ کے مطابق سی پیک بالخصوص چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی ۔

اجلاس میں ملکی داخلی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ داخلی سلامتی یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے ،اجلاس کے شرکا نے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ قوم نے دہشتگردی کی لعنت سے نجات کیلئے بڑی قیمت ادا کی ،وزیراعظم نے مسلح افواج، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن اجلاس: جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ میں بطور جج نامزدگی پر اتفاق نہ ہو سکا