امریکا کے عراق اور شام پر حملے، ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی

Feb 04, 2024 | 19:34:PM
امریکا کے عراق اور شام پر حملے، ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکا نے عراق اور شام میں 85 مقامات پر فضائی حملے کیے جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے اردن میں اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے عراق اور شام میں ایران کی پاسداران انقلاب اور ان کی حمایتی فورسز کے ٹھکانوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں نے حملے کیے۔

عراق کی ریاستی سیکورٹی فورس نے امریکا کے بی ون بمبار طیاروں کی شدید بمباری میں پاسداران انقلاب کے 16 جنگجووں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ شام میں امریکی حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکا نے عراق اور شام میں پاسداران انقلاب کے اسلحہ خانوں کو بھی تباہ کرنے کا دعوی کیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا کے بمبار طیاروں نے ان حملوں کیلئے کہاں سے اُڑان بھری تھی اور کون سی بیس استعمال کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: یمن میں امریکا اور برطانیہ کےحوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے حملوں کے بعد کہا کہ یہ ہمارے جوابی ردعمل کا آغاز ہے۔ صدر جوبائیڈن نے پاسداران انقلاب اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کیخلاف اضافی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مزید کہا کہ ہم ایران، مشرق وسطیٰ یا کسی اور سے جنگ نہیں چاہتے لیکن امریکی افواج پر حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

دوسری جانب عراق نے امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور حملے کو اپنی سلامتی کیخلاف اور دراندازی قرار دیتے ہوئے باضابطہ احتجاج کیا جبکہ شام نے بھی امریکا سے احتجاج کیا ہے۔

ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ یہ حملے امریکا کی مہم جوئی کی عادت کی غماز ہے جس کا نتیجہ صرف خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔