سندھی اجرک کیسے تیار ہوتی ہے؟

سندھ سمیت دنیا بھر میں سندھی کلچر ڈے منایا جارہا ہے،اس دن سندھی بچے،بوڑھے،جوان اور خواتین سبھی سندھی اجرک اور ٹوپی پہنتے ہیں ،خوبصورت اجرک کیسے تیار ہوتی ہے؟ اس پر رنگ کیسے بنتے ہیں؟ اس کے پیچھے بھی ایک بڑا کام ہے

Dec 04, 2022 | 16:15:PM
سندھی کلچر ڈے, سندھی اجرک, ٹوپی ,سعیدہ پوری اجرک
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سندھ سمیت دنیا بھر میں سندھی کلچر ڈے منایا جارہا ہے،اس دن سندھی بچے،بوڑھے،جوان اور خواتین سبھی سندھی اجرک اور ٹوپی پہنتے ہیں ،خوبصورت اجرک کیسے تیار ہوتی ہے؟ اس پر رنگ کیسے بنتے ہیں؟ اس کے پیچھے بھی ایک بڑا کام ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق تاریخ بتاتی ہے کہ نیل کا پودا دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کاشت کیا جاتا تھا۔ نیل کے کام کے آثار موئنجو دڑو سے بھی ملے ہیں، یعنی نیلگوں رنگ سندھی تہذبی ورثہ ہے، جو اجرک کا مخصوص رنگ ہے۔ہاتھ سے تیار شدہ اجرک کی تیاری میں محنت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کپڑے کو صرف چھپائی ہی کے لیے پانچ مراحل گزرنا پڑتا ہے۔ ڈھائی گز کی اجرک مکمل ہونے میں ایک ماہ سے زیادہ لگ جاتا ہے۔ اس کے چار مخصوص رنگ، یعنی کالا، سفید، سرخ اور نیلگوں یعنی انڈیگو ہیں، جو اجرک کی پہچان ہیں۔ہاتھ سے بنی ہوئی مخصوص اجرک کی پہچان یہ ہے کہ وہ دو طرف سے چھاپی جاتی ہے، جبکہ سکرین پرنٹ کی اجرک صرف ایک طرف سے پرنٹ ہوتی ہے۔

 اس ثقافتی ورثے کو مٹیاری کے شفیق احمد سومرو قدیم مخصوص قدرتی رنگوں، ٹھپے اور چھپائی کر کے بنا رہے ہیں۔شکیل ابڑو نے ’’دی انڈیپنڈنٹ اردو‘‘کو بتایا کہ  سندھی انڈیجینس ٹریڈیشنل کرافٹ سے منسلک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجرک کی اہمیت سمجھنے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ موئنجو دڑو سے برآمد ہونے والے مشہور بت ’کِنگ پریسٹ‘ نے بھی اجرک اوڑھ رکھی ہے۔

ضرور پڑھیں :جرمن قونصلر سندھی رنگ میں رنگ گئے

شفیق سومرو بتاتے ہیں کہ  چھپائی والی اجرک خالص سوتی کپڑے پر ہی تیار ہو سکتی ہے۔ رنگوں اور کپڑے میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونا چاہیے، پھر رنگ کھل کر آتے ہیں۔وہی سوتی کپڑا جو لوگ پہنتے ہیں، وہ کپڑا جلد پھٹ جاتا ہے۔ لیکن ہم اجرک تیار کرتے ہوئے اسے سرسوں کے تیل سے مضبوطی دیتے ہیں۔ اسے سات سے آٹھ دنوں کے لیے سرسوں کے تیل میں بھگو دیتے ہیں، جس سے وہ بھاری ہو کر مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجرک سالہاسال تک چلتی ہے، پھٹتی نہیں۔ اس طریقے سے بنائی گئی اجرک ’تیلی اجرک‘ کہلاتی ہے۔

اس کے بعد اس تیلی کپڑے کو رات بھر کے لیے صابن، سوڈے اور کھارے تیل ملا کر بھٹی میں پکاتے ہیں، پھر گھسی یعنی اونٹ کے گوبر میں بند کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس سے کپڑے میں نرمی آ جاتی ہے اور کپڑے کا سارا کلف نکل جاتا ہے۔ اب اسے پانی سے دھو کر سکھا لیا جاتا ہے۔اجرک کی تیاری میں موسم کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ بارش میں کام نہیں ہو سکتا کیوں کہ کئی مراحل پر کپڑے کو تیز دھوپ میں سکھانا ضروری ہے۔ اب کپڑا چھپائی کے لیے بالکل تیار ہے۔

 اجرک کے  کیلئے مخصوص رنگ تیار کیے جاتے ہیں۔ کالا رنگ تیار کرنے کے لیے پرانے لوہے کو پانی میں آٹھ دس دنوں کے لیے بھگو دیتے ہیں۔ زنگ اور پرانے لوہے سے جو رنگ نکلتا ہے، اس سے کالا رنگ تیار کیا جاتا ہے۔ لال رنگ ’منجید‘ پودے کی شاخوں سے تیار کیا جاتا ہے، ساتھ ہی گوند، ساگون، انار کے چھلکے اور مہندی کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ اجرک کے مخصوص نیلگوں رنگ یعنی انڈیگو کی تیاری کے لیے نیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ نیل کو ہفتہ دس دن کے لیے بھگو دیا جاتا ہے۔ پہلے پہل اس میں سبزی مائل زرد رنگ نکلتا ہے، اس رنگ کو جتنی دھوپ لگتی جاتی ہے، وہ چمکیلا اور نیلا ہوتا جاتا ہے۔ یعنی اجرک کا مخصوص نیلا رنگ تیار ہے۔

اجرک کا ہر ڈیزائن الگ الگ ہوتا ہے، جیسے ’چکی،‘ ’جلیب‘ اور ’بادامی،‘ یہ سب چھپائی کے ڈیزائن ہیں۔ مخصوص نیلگوں رنگ کی اجرک کو ’کاشی اجرک‘ کہتے ہیں، جو عابدہ پروین بھی پہنتی ہیں۔ یہ سعیدہ پوری اجرک پر جلیب کی چھپائی کی جاتی ہے۔ موئن جودڑو سے نکلی ہوئی اجرک کے ڈیزائن کو ’ککر‘ کہتے ہیں۔ سرخ رنگ سے تیار اجرک کو ’کھارک‘ کہا جاتا ہے۔

اجرک کے پرانے طریقوں کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قدرتی رنگوں کی تیاری کے ساتھ ہاتھوں سے بلاک تیار کروایا جائے کیوں کہ ٹھپوں کو بھی مشین سے تیار کیا جا رہا ہے۔ ادارہ رواج ایسے کاریگروں کو تربیت دے رہا ہے جو ہاتھوں سے ٹھپوں کے نقش تیار کریں تاکہ اجرک کے مخصوص ٹھپے ہنرمند ہی تیار کریں اور لوگوں کو روزگار بھی مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں : سندھی ثقافت کی دنیا بھر میں دھوم مچ گئی

کیمیکل سے تیار شدہ رنگائی کے رنگ جرمنی سے آتے ہیں۔ یہ سستے ہوتے ہیں، جبکہ دیسی رنگ تیار نہیں ملتے۔اب قدرتی رنگوں کو تیار کرنے کے دوران ہاتھ تو رنگیں گے ہی۔ دیکھ لیں سارے ہاتھ نیلگوں رنگ سے رنگیں ہو گئے ہیں، اور کئی کئی دن تک یہ رنگ چھٹتا نہیں۔ جبکہ کیمیائی رنگ صابن سے دھونے پر اتر جاتا ہے۔