عمران خان کے سابق آرمی چیف پر مسلسل الزامات،پرویز الٰہی خاموش کیوں؟

جنرل باجوہ کے خلاف اب اگر بات کی گئی تو سب سے پہلے میں بولوں گا، میری پوری پارٹی بولے گی:پرویز الٰہی

Jan 02, 2023 | 16:58:PM
عمران خان کے سابق آرمی چیف پر مسلسل الزامات،پرویز الٰہی خاموش کیوں؟
کیپشن: عمران خان،جنرل(ر)قمر جاوید باجوہ،پرویز الٰہی
سورس: 24 NEWS
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اظہر تھراج )سابق وزیر اعظم عمران خان مسلسل سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کے خلاف بول رہے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ اس پر خاموش ہیں حالانکہ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ  ’’جب عمران خان صاحب جنرل باجوہ کےخلاف بات کر رہے تھے، تو مجھے بہت برا لگا، جنرل باجوہ کے خلاف اب اگر بات کی گئی تو سب سے پہلے میں بولوں گا، میری پوری پارٹی بولے گی‘‘پرویز الٰہی کی مسلسل خاموشی کے پیچھے ماجرا کیاہے؟

چوہدری پرویز الہٰی کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی سنا گیا کہ جنرل باجوہ کے عمران خان پر بہت احسانات ہیں، احسان فراموشی نہیں کرنی چاہیے، جنرل باجوہ ہمارے محسن ہیں، محسنوں کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے۔ باجوہ صاحب کے احسان ہیں ۔باجوہ صاحب نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچایا۔بیرون ملک سے فنڈز لانے باجوہ صاحب خود گئے۔باجوہ صاحب نے آئی ایم ایف سے بیلجئم میں بیٹھ کر بات کی۔باجوہ صاحب کنگ سلمان سے ملے ،قطر سے پیسے لے کر آئے۔ویڈیو دیکھیں 

چودھری پرویز الٰہی کی دھمکی کے اگلے روز ہی عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف جیسے بڑے مجرموں کا احتساب کیا جائے مگر بدقسمتی سے نیب کو جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کنٹرول کرتے تھے۔ ابتداء میں انکار نہیں کیا گیا مگر بالآخر ہمیں کہا گیا کہ معیشت پر دھیان دیں اور احتساب کے بارے میں فکر مند ہونا چھوڑ دیں۔ جنرل باجوہ نے ہی اصل میں ہمیں ان لوگوں کو این آر او دینے کا کہا۔ہمارا پرویزالہیٰ کے ساتھ سابق آرمی چیف سے متعلق کچھ طے نہیں ہوا تھا۔ خطاب کے بعد وزیر اعلیٰ نے کوئی بات نہیں کی۔ اس وقت نہیں کہا کہ باجوہ کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔

22 دسمبر کو گورنر ہاؤس لاہور کے باہر موجود تحریک انصاف کے کارکنوں سے ویڈیو لنک خطاب میں جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ کا نام لیے بغیر کہا کہ اس حکومت کو ایک آدمی نے گرایا، میں سب اداروں سے بات کر رہا ہوں، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ سے بات کر رہا ہوں، یہ سب کی جنگ ہے سوائے ان لوگوں کے جن کے پیسے باہر پڑے ہیں۔

ضرور پڑھیں :اللہ کرے تم مرجاؤ!

23 دسمبر کو عمران خان نے لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات  کی اور کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے اس وقت کوئی رابطہ نہیں،جنرل باجوہ سے رابطہ رہتا تھا۔وزیراعظم میں تھا لیکن جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ فین شہباز شریف کے تھے، سابق آرمی چیف نے شہباز شریف کو جیل میں فون کرکے مزاج پرسی کی تو میں نے کہا کہ اگر شہباز شریف کی مزاج پرسی کرنی ہے تو جیلوں میں قید باقی لوگوں کا کیا قصور ہے۔

اگلے ہی روز 24 دسمبر کو مخصوص صحافیوں سے ملاقات کی اور کہا کہ  آخری ایک سال میں پتہ چلا جنرل باجوہ احتساب چاہتے ہی نہیں، جنرل باجوہ نے زرداری اور مراد علی شاہ سے ڈیل کر رکھی تھی۔

27 دسمبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے پھر جنرل باجوہ کو نشانے پر رکھا اور کہا کہ امریکا کی خواہش تھی کہ عمران خان کو ہٹایا جائے، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے امریکا میں حسین حقانی کی خدمات حاصل کیں، حسین حقانی ان کیخلاف کام اور جنرل باجوہ کو پروموٹ کر رہا تھا۔ میں نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے کہا تھا کہ دہشت گردی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ کہا جب پاک افغان سرحد پرجب باڑ ٹوٹ رہی تھی تو کیا ہمیں پتا نہیں چلا؟ کیا ان کا کام سیاسی انجینیئرنگ کرنا تھا۔

اگلے ہی روز زمان پارک میں صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھے ورکنگ ریلیشن رہے ، انہوں نے اس ملک پر بڑا ظلم کیا،جس کی وجہ سے ہم ڈیفالٹ کے قریب کھڑے ہیں۔ اسٹبلیشمنٹ کا نام جنرل باجوہ تھا، جنرل باجوہ کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنی تھی، میں جنرل (ر) باجوہ کو سمجھاتا رہا کہ کرپشن بڑا مسئلہ ہے، ان کے سُسر کی کرپٹ ٹولے سے دوستیاں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں :اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے عمران خان کو کس نے کہا؟

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سال 2023 کے پہلے روز ہی چند صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ میں تاحال سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا سیٹ اپ کام کررہا ہے،پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا نام ایک آدمی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ احتساب نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے تعلقات خراب ہوئے۔حسین حقانی کو جنرل باجوہ نے لابنگ کے لئے امریکا میں ہائر کیا، حسین حقانی میرے خلاف مہم اور جنرل باجوہ کی تشہیر کرتے رہے۔

عمران خان چودھری پرویز الٰہی کی تنبیہ کے بعد سات مرتبہ جنرل(ر)قمر جاوید باجوہ کیخلاف بات کرچکے ہیں لیکن اب تک نہ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب بولے ہیں اور نہ ہی ق لیگ کے کسی رہنما کے منہ سے ایک بھی لفظ نکلا ہے،یہ خاموشی کسی حکمت عملی کا حصہ ہے یا کچھ اور۔چودھری پرویز الٰہی کب اپنے ’’محسن ‘‘کو بچانے کیلئے بولیں گے؟