وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے عوام کو ‘خوشخبریاں’ سنا دیں

Jun 24, 2022 | 14:31:PM
وزیر خزانہ،مفتاح اسماعیل،قومی اسمبلی،بجٹ سیشن
کیپشن: ہر سونے کی 3 سو سکوائر فٹ دکانوں پر 40 ہزار فکسڈ ٹیکس لگا دیا: مفتاح اسماعیل/ فائل فوٹو، گوگل سورس
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اب ڈیفالٹ نہیں بہتری کی جانب جائے گا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا، 80 لاکھ لوگ بے نظیر سکیم میں رجسٹرڈ تھے، 40 لاکھ میسیج کرچکے ہیں، آٹا گھی چینی سارا سال سستا دیا جائے گا، یوٹیلیٹی سٹورز پر ایک آمدن کی حد مقرر کی جارہی ہے

  سپیکر راجہ پرویزاشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بجٹ کی کاروائی بہت خوش اسلوبی سے ہوئی ہمیں ارکان نے بہت اچھے مشورے دیئے گئے ہیں، بیشتر سفارشات کو شامل کر رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی طرف سے گندم و کپاس اور نوجوانوں کی طرف توجہ دلائی گئی، ہم نے کھل بنولہ پر ٹیکس ہٹا دیا ہے، زرعی آلات ٹریکٹر وغیرہ پر سبسڈی دے کر کسانوں کی مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دینے کیلئے رجسٹر کر لیا، 80 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دیئے ہیں، رواں مالی سال 5300 ارب روپے کا خسارہ ہوا، پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں:مہنگائی سے تنگ عوام کیلئے بُری خبر: حکومت کا نئے ٹیکسز کا اعلان

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنا پڑتے ہیں، وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا، میری اپنی کمپنی آئندہ مالی سال 20 کروڑ روپے زیادہ ٹیکس دے گی۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارے کا ہدف 3990 مگر 5310 ارب کا خسارہ ہوا ہے، جی ڈی پی کا خسارہ 9.5 فیصد رہا، عمران خان تو ملک کو دیوالیہ کی طرف لے گئے تھے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ایٹمی ملک دیوالیہ نہیں ترقی کی طرف جائے گا، چالیس ارب روپے میں پوری حکومت چلتی ہے، عمران خان پیٹرولیم پر 120 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔

 مفتاح اسماعیل نے کہا اتحادی جماعتوں نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا کر ملکی معیشت بچائی ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام معطل تھا، ہم آئی ایم ایف سے بات چیت میں قریب پہنچ چکے ہیں، ہم نے ڈائریکٹ ٹیکس نہیں لگائے بلکہ امراء پر ٹیکس لگائے ہیں، میں نے اپنے وزیر اعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر ٹیکس لگائے ہیں، میری اپنی کمپنی 20 کروڑ روپے اضافی ٹیکس دے گی۔

 انہوں نے کہا کہ 90 لاکھ دکانوں میں 25 لاکھ دکانوں پر فکس ٹیکس لگائیں گے، سونے کے کاروبار میں 30 ہزار دکانوں میں سے 22 ہزار رجسٹرڈ ہیں، ہر سونے کی 3 سو سکوائر فٹ دکانوں پر 40 ہزار فکسڈ ٹیکس لگا دیا ہے۔

 وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہم آمدن پر ٹیکس لگا رہے ہیں، ہمارے اقدامات سے مہنگائی نہیں بڑھے گی، 80 لاکھ لوگ بے نظیر سکیم میں رجسٹرڈ تھے، 40 لاکھ میسیج کرچکے ہیں، آٹا گھی چینی سارا سال سستا دیا جائے گا، یوٹیلیٹی سٹورز پر ایک آمدن کی حد مقرر کی جارہی ہے۔