سگریٹ پینے والا شخص کتنے لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے؟

سی او پی ڈی بیماری سے سالانہ 30لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں:پروفیسر الفرید ظفر

Nov 18, 2022 | 16:03:PM
سگریٹ پینے والا شخص کتنے لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے؟
کیپشن: سی او پی ڈی
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ سی او پی ڈی نظام تنفس کی بیماری،سالانہ 30لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں سگریٹ نوشی کے عادی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے والی خطرناک بیماری کے خطرات سے آگاہ نہیں۔

سی او پی ڈی کے عالمی ددن پر جنرل ہسپتال میں پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کے زیراہتمام آگاہی والک کا انعقادہوا۔شرکا سے خطاب کرتے ہوئے  ۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ سگریٹ پینے والا ایک شخص اپنے ادر گرد موجود 10لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے۔سانس کی نالی کی سوزش، ورم، پھیپھڑوں کی خرابی، سانس لینے میں دشواری و انفیکشن اور توانائی کی کمی علامات میں شامل ہیں۔شہری پبلک مقامات، کارخانوں میں فیس ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کرانک ابسٹریکٹیو پلما نری ڈیزیز (سی او پی ڈی) نظام تنفس کی بیماری ہے جس میں سانس کی نالی کی سوزش، ورم، پھیپھڑوں کی خرابی، سانس لینے میں دشواری و انفیکشن اور توانائی کی کمی شامل ہے جبکہ سگریٹ نوشی کے عادی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے والی اس خطرناک بیماری کے خطرات سے آگاہ نہیں ہیں لہذاسگریٹ نوشی کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ضروری ہے کیونکہ سگریٹ پینے والا ایک شخص اپنے ادر گرد موجود 10لوگوں کو بالاوسطہ طور پر متاثر کرتا ہے اور مذکورہ بیماری کے باعث ہر سال دنیا بھر میں 30لاکھ افراد  لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ پلمو نالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی واک کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایچ او ڈی پلمونالوجی ڈاکٹر جاوید مگسی، ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر خالد بن اسلم نے اس مرض سے بچاؤکے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔ 

 پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اس مرض کے پھیلاؤ کی وجہ ماحولیاتی و فضائی آلودگی ہے جو فیکٹریوں، کارخانوں، ٹریفک کے دھویں،سگریٹ نوشی اور فیکٹری کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات کے ذرات مزدوروں کے نظام تنفس کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کی روک تھام کیلئے سرکاری اداروں کے علاوہ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہونگی جس سے بیماری کی وجوہات کو روکا جا سکے۔ سی او پی ڈی سے متاثرہ شخص امراض قلب، پھیپھڑوں کے کینسر اور دمہ جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے لہذا اس بیماری کے خاتمے پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔

پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کی صنعتی ترقی، بغیر منصوبہ بندی کی بستیوں کا قیام، آبادی میں اضافہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کا رش اور متعلقہ محکموں کی جانب سے ان گاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے مناسب مانیٹرینگ نہ ہونے سے شہر کی سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیاں نظر آتی ہیں جو عوام کی صحت کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہیں۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ اس مرض کے متعلق شہریوں میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ پبلک مقامات، کارخانوں میں فیس ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ فضائی آلودگی، دھویں اور فیکٹریوں کے اندر کا ماحول لوگوں کی صحت کے لئے خطرات کا باعث نہ بنے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ حفاظت خود اختیاری کے تحت شہریوں کو اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی کا لازمی جز وبنا لینا چاہئے۔ واک کے اختتام پر شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر مبنی پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس موجود تھے۔